500علماء اور مفتیان کا جعلی پیروں کیخلاف اجتماعی اعلامیہ

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/اللہ دادصدیقی: جماعت اہلسنّت کے 500علماء نے جعلی پیروں اور عاملوں کے خلاف اجتماعی اعلامیہ جاری کردیا

جماعت اہلسنّت پاکستان کے مرکزی امیر صاحبزادہ پیر سید مظہر سعید کاظمی اور مرکزی ناظم اعلی علامہ پیر سید ریاض حسین شا ہ سمیت جماعت اہلسنّت کے500سے زائد علماء اور مفتیوں نے سانحہ سرگودھا کے تناظر میں جعلی پیروں اور عاملوں کے خلاف اعلامیہ جاری کیا ہے ۔ علماء اہلسنّت کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسلام میں روحانیت کی آڑ میں غیر شرعی حرکات کی کوئی گنجائش نہیں۔جس روحانی درگاہ پر شریعت کی پابندی نہ کی جاتی وہ خانقاہ نہیں دکا ن ہے۔ جعلی پیر پاکیزہ خانقاہی نظام کو بدنام کررہے ہیں۔ غیر شرعی امور میں ملوث جعلی پیر اور عامل معاشرے کیلئے ناسور بن چکے ہیں اس لئے حکومت تصوف کو بدنام کرنے والے جعلی پیروں اور عاملوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرے۔ طریقت او ر شریعت لازم و ملزوم ہیں۔ پیری مریدی کے نام پر خرافات کو فروغ دینے والوں کا اہلسنّت اور روحانیت سے کو ئی تعلق نہیں ۔ اہلسنّت علماء، مشائخ اورو مفتیان کرام ایسے تمام جعلی پیروں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے سچے ولی ایمان ، تقویٰ اور پرہیز گاری والے ہوتے ہیں۔ ولیوں اور صوفیوں کی نشانیاں قرآن میں بیان کی گئی ہیں ۔ تصوف اللہ کیلئے خالص ہونے اور شریعت کی پیروی کا نام ہے۔ عوام مزارات اولیاء پر حاضری کے آداب اور شرائط کی پابندی کریں۔ محکمہ اوقاف کے زیر انتظام چلنے والے مزاروں اور درگاہوں پر ناچ گانے، منشیات فروشی اور دوسری تمام خرافات اور غیر شرعی امور بند کروائے جائیں۔ پیری مریدی کی دکانیں کھول کر لوٹ مار کرنے والے جعلی پیروں کے خلاف کریک ڈاؤ ن کیا جائے۔ دین سے دوری نے جعلی پیروں ، عاملوں اور جادو ٹونہ کرنے والوں کو جلا بخشی ہے۔ سانحہ سرگودھا ضعیف الاعتقادری اور اندھی عقیدت کا شاخسانہ ہے۔ دو نمبر پیر تصوف کی روشن اقدار سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ روحانیت کی آڑ میں ہونیوالا دھندہ ختم کیا جائے۔ جعلی پیر روحانیت کے نام پر حیوانیت کا پرچار کررہے ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جماعت اہلسنّت جعلی پیروں اور جاہلانہ رسوم و رواج کیخلاف مہم چلائیگی ۔ جہالت و گمراہی کے خاتمے کیلئے علماء اپنا کردار ادا کریں او ر قوم کو صحیح اسلامی تصوف سے آگاہ کریں۔ معاشرے میں پھیلنے والی سماجی برائیوں کے خلاف جہاد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوام جعلی پیروں، عاملوں او ر جادوٹونہ کرنے والوں سے بچیں اور اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں۔ حکومت سرگودھا میں 20افراد کو قتل کرنے والے جعلی پیر کو عبرت کا نشان بنائے ۔ تصوف کے نام پر دنیاوی کاروبار کرنے والے اللہ کے عذاب سے ڈریں اور روحانیت کا لبادہ اوڑھ کر اسلامی تعلیمات کے برعکس اعمال کا ارتکاب کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں بلکہ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جانی چاہیئے۔ ایمان کے ڈاکو جعلی پیر اور عامل سادہ لوح عوام کو جذباتی سطح پر بلیک میل کرتے اور ان کا ایمان لوٹتے ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں روحانی خانقاہوں سے اللہ پرستی اور انسان دوستی کا پیغام دیا جارہا ہے اور تصوف کے ذریعے انسانی قلوب و اذہان کی اصلاح کی جارہی ہے لیکن مٹھی بھر جعلی پیروں کی آڑ میں خانقاہی نظام پر تنقید ناقابل برداشت ہے۔ اعلامیہ جاری کرنے والے علماء اہلسنّت میں مفتی محمد اقبال چشتی، علامہ سید شاہ عبد الحق قادری، علامہ سید شمس الدین بخاری،علامہ حافظ فاروق خان سعیدی، صاحبزادہ عبد المالک ، پیر خالد سلطان قادری، علامہ پیر سید خلیل الرحمن بخاری، علامہ صاحبزادہ غلام صدیق نقشبندی، علامہ سید خضر حسین شاہ سیالوی، مولانا محمد اکرم سعیدی، علامہ محمد اکر م شاہ جمالی، مولانا ابرار احمد رحمانی، علامہ بشیر القادری، مفتی فضل جمیل رضوی، علامہ سید غلام یٰسین شاہ، علامہ خلیل الرحمن چشتی، علامہ قاضی محمد یعقوب رضوی، علامہ حمید الدین رضوی، علامہ رفیق احمد شاہ جمالی، علامہ منظو ر عالم سیالوی، علامہ صاحبزادہ محمد عثمان غنی، مفتی لیاقت علی،علامہ رضوان انجم، علامہ حافظ سخی احمد خان، علامہ شیر محمد نقشبندی، علامہ محب النبی طاہر، علامہ فیض بخش رضوی، علامہ رضوان یوسف، علامہ پروفیسر عبد العزیز نیازی، علامہ محمد سلیم ہمدمی، علامہ ڈاکٹر منظو ر حسین اختر، علامہ محمد اشرف سعیدی، علامہ عبد القوی بغدادی قادری ، علامہ پیر سید فدا حسین شاہ، مولانا محمد حنیف چشتی، علامہ خالد حسن مجددی، علامہ حافظ محمد اکبر، علامہ نور محمد ، علامہ نعیم المصطفیٰ چشتی ، علامہ ملازم حسین ڈوگر،صاحبزادہ محمد حمید الدین رضوی ، مولانا عبد الرحیم رضوی، علامہ سید اسحاق نقوی، علامہ عبید ستی، علامہ فضل سبحان قادری، علامہ ریاض احمد اویسی،علامہ قاری نذیر احمد قادری،علامہ عبد الحفیظ معارفی، علامہ فیروز خان صدیقی، علامہ حافظ محمد یعقوب فریدی ،علامہ نعیم المصطفیٰ چشتی، مولانا محمد اشرف چشتی، صاحبزادہ ضیاء الحق رضا، علامہ ڈاکٹر شمس الرحمن شمس اور دیگر شامل ہیں۔