امریکا اور بھارت کا ” ٹو فرنٹ وار” منصوبہ

جمعرات کے روز پاک افغان سرحدی علاقے میں امریکا کے ڈرون حملے میں دو مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ پاکستان میں ڈرون حملہ مئی 2016 کے کئی ماہ بعد ہوا ہے ۔ گذشتہ سال مئی میں امریکی ڈرون حملے میں ایک طالبان کمانڈر کو بلوچستان میں نشانہ بنایا گیا تھا جس پر پاکستان نے ایسے حملے کو ریڈ لائن کی خلاف ورزی قرار دیا تھا ۔ دوسری طرف بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے گذرے برس کے آخرمیں بھارت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گھس کر سرجیکل اسٹرائیک کا دعوی کیا تھا جس پر امریکی انتظامیہ خاموش دکھائی دی۔ تاہم یہ اتفاق نہیں تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے نئی دہلی کو ملٹری سٹریٹیجک اتحادی کی حثیت سے تعلقات کو وسعت دینے کا عندیہ دیدیا ہے۔ واشنگٹن کا یہ اقدام حیران کن نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہتی ہے ۔ تاہم واشنگٹن کا بیجنگ کیخلاف نئی دہلی سے دفاعی تعاون میں اضافہ نہ صرف خطے  کو شدید خطرات سے دوچار کریگا وہیں بھارت کی چین اور پاکستان کیساتھ سلگتی کشیدگی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہوگا۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر اوباما نے نئی دہلی کو اپنا بڑا فوجی اتحادی قرار دیا تھا جبکہ رواں ماہ مشرقی ایشیاء کے دورہ کے دوران امریکی سیکرٹری دفاع جیمز میٹس نے قرار دیا ہے کہ نئی دہلی کو بڑا امریکی دفاعی شراکت کار بنانے کے تمام قانونی پہلو تکمیل ہو چکے ہیں۔ جس سے بھارت کو جدید امریکی دفاعی اسلحہ تک رسائی حاصل ہو گئی ہے بلکہ امریکہ اور بھارت مشترکہ طور پر جدید دفاعی نظام تیار کرینگے ۔ بڑے دفاعی اتحادی کا سٹیٹس پانے کے بعد بھارت نے امریکہ کو اپنے بری ، فضائی اور بحری اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے ۔

رواں صدی کے ابتداء سے ہی امریکا  میں حکمران ری پبلکن اور ڈیموکرٹیک دونوں جماعتوں نے ہی بھارت سے تعلقات میں اضافہ کو اپنی ترجیح بنا لیا تھا جس کی بنیادی وجہ چین کی ناکہ بندی کے لئے بھارت کی تزیرواتی حثیت ، دنیا کی بڑی ایٹمی فوج اور چین سے بھارت کا سرحدی تنازعہ رہی۔ امریکی سفیر نے گذشتہ ماہ چین کی سرحد سے ملحقہ بھارتی صوبے ارون چل پردیش کا دورہ کیا۔ امریکی انتظامیہ ارون چل پردیش کو بھارت کا حصہ تسلیم کرتی ہے جیسے چین اب تک تبت کا جنوبی حصہ قرار دیتے ہوئے متنازعہ حصہ قرار دیتا آرہا ہے۔

پینٹاگون ، سی آئی اے اور امریکہ خارجہ پالیسی کے تھنک ٹینک اس لئے بھی بھارت کو بڑا دفاعی اتحادی ہونے کا اعزاز دے رہےہیں کہ چین کی تیل سپلائی اور دیگر درآمدات بحیرہ ہند کے راستے ہورہی ہیں جبکہ اس کی یورپ ، افریقہ اور مشرق وسطی کو برآمدات کا راستہ بھی ہے۔

سابق صدر بارک اوباما کی دوہزار گیارہ کی ” چین کا حصار” پالیسی کی تشکیل کے بعد سے بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کی انتہا پسند رحجانات کی حامل مودی حکومت واشنگٹن سے چین کیخلاف اقدامات کے لئے زیادہ ہم آہنگ ہے اور واشنگٹن کی اینٹی چین پالیسی میں فرنٹ لائن سٹیٹ کی حثیت اختیار کر چکی ہے۔ گذشتہ ماہ امریکی بحریہ کے اعلی عہدیدار نے انکشاف کیا تھا کہ بھارت اورامریکا بحریہ ہند میں چین کے جہازوں اور آبدوزوں کی نقل و حرکت بارے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں ۔ بھارت نے امریکہ کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا اور جاپان سے بھی سیکیورٹی امور پر تعاون میں اضافہ کیا ہے جو کہ چین کیخلاف امریکی شراکت دار ہے۔

بھارت کی مودی حکومت جنوری ۲۰۱۵ سے امریکہ کو چین کے خلاف جارحانہ اقدامات پر بھڑکاتی آرہی ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ چین کو جنوبی چائنا سمندر کی ناکہ بندی کی دھمکی دے چکی ہے۔ بھارت کی چین کیخلاف امریکی حکمت عملی کا حصہ بننے کا اہم اشارہ پینٹا گون کی جانب سے امریکی فلیٹ سیون سے منسلک بحری و فضائی جنگی جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لئے بھارت کو مرکز بنانے کا عندیہ، چین کیخلاف بحری اور فضائی جنگی حکمت عملی میں نئی دہلی اور واشنگٹن کے اشتراک کا واضح اعلان ہے ۔

امریکا اور بھارت کے تزیرواتی گہرائی میں اترے تعلقات نے جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو الٹ کر رکھ دیا ہے جس سے خطے میں روایتی حریفوں چین اور پاکستان سے بھارت کے تناءو میں شدت آرہی ہے۔ بھارتی اقدامات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ خطے میں نیوکلئیر اور بلاسٹک میزائلوں کی دوڑ شروع کرکے پاکستان اور چین کو بھی اس میں گھسیٹ رہا ہے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران جنوبی ایشیاء میں نیوکلیئرہتھیاروں کی دوڑ مزید بڑھتی دیکھی گئی ہے۔ روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت نے نیوکلیئر ہتھیار لیجانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کے تجربات کئے ہیں۔ گذشتہ خزاں میں پاکستان اور بھارت جنگ کے قریب پہنج گئے تھے جب بھارت نے پاکستان کے اندر سرجیکل اسٹرئیک کرنے کا جواز تراشا تھا تاہم بھارت کے سرجیکل اسٹرئیک کے دعوے تو سچ ثابت نہ ہو سکے تاہم گذشتہ تین ماہ سے کنٹرول لائن بھارتی فورس کی بلاجواز فائرنگ اور گولہ باری کے جوابی پاکستانی اقدامات سے کشمیر کو تقسیم کرنے والی عارضی سرحدی لکیر بے گناہ شہریوں کے خون سے سرخ ہو رہی ہے۔ بھارت کے بلاجواز سرحدی خلاف ورزیوں سے خطے میں جنگ کے خطرات گہرے ہوتے جا رہے ہیں اور دونوں ممالک کی جانب سے جنگ کے لئے تیار ہونے کا عندیہ دیا ہے جو روایتی سے نیوکلیئر جنگ میں تبدیل ہونے کے خطرات سے مبرا نہیں۔

نئے بھارتی آرمی چیف راوت نے پاکستان اور چین سے ” ٹو فرنٹ وار” کے لئے تیار ہونے کا عندیہ دیا ہے جس کے لئے ” کولڈ سٹارٹ ” لائحہ عمل اختیار کیا جائِگا ۔ جس کے تحت صرف اڑتالیس گھنٹوں پاکستان کے وسیع علاقے پر حملہ آور ہو سکے گی۔

گذشتہ سال ستمبر کے بعد بھارت نے تین ارب ڈالر کے جنگی ہتھیار خریدے ہیں جو دس روز کی روایتی جنگ کے لئے کافی ہو سکتے ہیں۔ ان ہتھیاروں میں ٹینکوں کی بھاری تعداد شامل ہے جو سرحدی ریاستوں پنجاب ، راجھستان میں تعینات فوج کو فراہم کئے جائینگے۔

بھارت کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کی امریکی پالیسی اور بھارت فوجی سربراہ کے بیان پر پاکستان نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا ہے ۔ اسلام آباد کی جانب سے واشنگٹن کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ بھارت کو نیوکلیئر پروگرام کی بڑھوتی کے لئے مراعات اور جدید اسلحہ کے لیس کرنے کے اقدامات کا نتیجہ تزیرواتی عدم توازن خطے کے امن اور استحکام کو خطرات سے دوچار کر دیگا اور اس صورت میں پاکستان کے پاس غہر روایتی ہتھیاروں سے جوابی کارروائی کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوگا ۔

امریکی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے قریب انٹیلجنس فرم سٹارٹ فار کے مطابق پاکستان کی ایٹمی پروگرام کا حصہ ایٹمی آبدوزوں پر بھارتی روایتی بحری کارروائی سے دونوں ممالک میں ایٹمی جنگ بھڑک سکتی ہے۔