سندھ،بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں تین دہشتگرد حملے، 80 شہید

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ : سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں تین دہشتگرد حملوں میں فوجی کیپٹن، پولیس اہلکاروں سمیت 80 سے زائد افراد شہید اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔ گزشتہ 4 روز کے دوران 6 خودکش حملوں میں درجنوں افراد شہید اورسیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

جمعرات کو دہشتگردی کا سب سے خونریز خودکش حملہ سیہون شریف درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطہ میں ہوا، اس خودکش حملے کے نتیجے میں 72 سے زائد افراد شہید ہوگئے جبکہ 200 سے زائد زخمی ہیں جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔
دھماکا شام 7 بجے اس وقت ہوا جب مزار میں دھمال جاری تھا اور اس کے احاطے میں سیکڑوں لوگ موجود تھے، دھماکا انتہائی زور دار تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس کے فوری بعد درگاہ میں مکمل طور پر دھواں پھیل گیا، دھماکے کے بعد مزار میں افراتفری مچ گئی جس سے متعدد افراد پیروں تلے بھی دب گئے جب کہ مزار کے بعض حصوں کو بھی نقصان پہنچا۔
دھماکے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کردیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کرنا شروع کردیا۔ درگاہ لعل شہباز میں دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سول ہسپتال سیہون، جامشورو اور حیدرآباد سمیت دیگر قریبی شہروں کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کرکے انہیں ڈیوٹی پر طلب کرلیا گیا ہے۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے خودکش حملے میں 70 افراد کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے اور 200 سے زائد افراد زخمی ہیں جس میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔ ایدھی حکام کے مطابق زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب سندھ پولیس کے ترجمان نے دھماکے کو خودکش حملہ قرار دے دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حملہ آور گولڈن گیٹ سے درگاہ میں داخل ہوا اور مزار میں دھمال کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ پولیس کا کہنا ہےکہ جمعرات کا روز ہونے کی وجہ سے مزار میں زائرین کا رش تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے درگاہ لعل شہباز قلندر میں خودکش دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے ریسکیو ٹیموں کو فوری جائے وقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت کی ہے جب کہ وزیراعلیٰ نے کمشنر حیدرآباد اور آئی جی سندھ کو بھی ٹیلی فون کرکے دھماکے کی تفصیلات معلوم کیں، وزیراعلیٰ نے آئی جی سندھ سے دھماکے کی رپورٹ بھی طلب کرلی
ادھر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیوں کے لیے فوج اور رینجرز کے دستے پہنچ گئے ہیں جو امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جب کہ ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ایمبولینس بھی جائے وقوعہ پر بھیج دیئے گئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق سی ایم ایچ حیدرآباد میں بھی زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق نیول چیف ایڈمرل ذکااللہ کی ہدایت پر کراچی میں نیوی کے تمام ہسپتالوں میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے، نیوی کے اسپتالوں میں ہیلی کاپٹر سے زخمیوں کو پہنچایا جارہا ہے اور رات میں اڑنے والے پاک نیوی کے ہیلی کاپٹراستعمال کئے گئے۔

بلوچستان کے ضلع آواران میں فوجی قافلے کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے میں پاک فوج کے کیپٹن سمیت 3 سپاہی شہید اور 2 زخمی ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان کے ضلع آواران میں فوجی قافلے کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا جس میں قافلے کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے سے کیپٹن سمیت 3 سپاہی شہید ہوگئے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق شہید ہونے والوں میں کیپٹن طحہٰ، سپاہی کامران ستی اور سپاہی مہترجان شامل ہیں جب کہ دھماکے میں 2 سپاہی زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس موبائل معمول کے گشت پر مامور تھی کہ اس دوران مسلح ملزمان نے موبائل پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں موبائل میں موجود 2 اہلکار موقع پر جبکہ دو اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے جب کہ پولیس اہلکاروں کی جوابی فائرنگ سے ملزمان فرار ہوگئے۔