پاکستان : ایک ہی دن میں چار خودکش حملے، آپریشن میں 6 دہشتگرد ہلاک

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ: پاکستان میں ایک ہی دن میں چار خودکش حملوں کے بعد سیکیورٹی اداروں نے پنجاب، کے پی کے اور سندھ میں مزید دہشتگرد حملوں کا الرٹ جاری کیا ہے جبکہ مہمند ایجنسی، وسطی اور جنوبی پنجاب کے اہم شہروں میں کومبنگ آپریشن کے دوران متعدد مشکوک افراد حراست میں لئے گئے ٹی ڈی سی نے آپریشن کے دوران خانیوال میں 6 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔
پاکستان میں ایک ہی دن میں چار خود کش حملہ آوروں نے بم دھماکے کرتے ہوئے کم از کم چھ افراد کو ہلاک اور متعدد دیگر کو زخمی کر دیا۔ تشدد کی
تازہ ترین دہشت گرد حملے پشاور اور مہمند ایجنسی میں کیے گئے۔پشاور میں ایک خودکش حملہ آور نے اپنی موٹر سائیکل پر رکھے دھماکا خیز مواد کے ذریعے اس وین کو نشانہ بنایا، جس میں متعدد جج بھی سوار تھے۔ خودکش حملے میں وین کا ڈرائیور ہلاک ہو گیا جبکہ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کر لی ہے۔ اس حملے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے۔ چار زخمی ججوں میں تین خواتین جج بھی شامل ہیں۔

اس سے پہلے بدھ ہی کے روز دو خودکش حملہ آوروں نے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں واقع پولیٹیکل ہیڈکوارٹر کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور سات زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق ایک حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ دوسرے حملہ آور نے خود کو سرکاری عمارت کے گیٹ کے سامنے دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا۔

پولیس کے مطابق اس کے بعد ایک اور خودکش حملہ آور نے خود کو اس وقت دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا، جب علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے اس کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
واضح رہے کہ منگل کو لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے خود کش حملہ میں اہم پولیس افسران سمیت سولہ افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری جماعت احرار نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔

تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے ترجمانوں نے غیر ملکی نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس طرح کے حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
سیکیورٹی اداروں نے پاکستان میں متعدد دہشتگردوں کے داخلے کا الرٹ جاری کیا ہے جبکہ پنجاب، کے پی کے اور سندھ میں مزید دہشتگرد حملوں کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔

ان خونریز حملوں کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستانی فوج کے سربراہ اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کی تاکہ سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ وزیر اعظم کی دفتر سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’’اجلاس میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مکمل عملی اور نظریاتی خاتمے کے قومی عزم کا اعادہ کیا گیا۔‘‘
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے خانیوال کے علاقے چک 98 میں 9 سے 10 دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مار کارروائی کی جس کے نتیجے میں دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی۔ دوطرفہ فائرنگ کے تبادلے میں 6 دہشت گرد موقع پر ہی مارے گئے جب کہ اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 3 سے 4 دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان جماعت الاحرار گروپ سے ہے جب کہ فرار دہشت گردوں کی گرفتاری کے لئے کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔