پاناما کیس : 1999میں شریف خاندان کا ریکارڈ ضائع ہو گیا،وکیل حسین نواز

اسلام آباد( اللہ داد صدیقی ) سپریم کورٹ نےدو ہفتوں کے التواء کے بعد پانامہ دستاویزات مقدمہ کی سماعت کا آغاز کردیا جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ سماعت کی. وزیراعظم کے صاحبزادوں حسن، حسین کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل جاری رکھے۔ کمرہ عدالت میں عمران خان، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید اور سراج الحق سمیت اپوزیشن رہنما موجود تھے۔ کمرہ عدالت میں حکومتی جماعت کے اراکین بھی براجمان رہے۔ حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے شیخ عظمت سعید کو صحتیابی کے بعد خوش آمدید کہا جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اللہ کے شکر گزار ہیں جس نے جسٹس عظمت سعید کو صحت عطا کی،ہر اس شخص کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جلد صحتیابی کی دعا کی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں نے ایک فیکٹ شیٹ جمع کرائی ہے جس میں الزامات کا مختصر جواب موجود ہے ۔ یہ فیکٹ شیٹ بنچ کے سمجھنے کے لئے جمع کرائی ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے میرے سامنے کل آٹھ سوال رکھے ہیں۔ نہ یہ ٹرائل ہے اور نہ میرے موکل گواہ ہیں۔۔ جتنا ریکارڈ موجود ہے اس کے مطابق جواب دونگا۔ چالیس پینتالیس سال کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں 1999 کے مارشل لا کی وجہ سے خاندانی دستاویزات ضایع ہوگئے۔ سلمان اکرم راجہ نے عدالتی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا عدالت انکوائری کے بغیر کسی نتیجے میں پہنچ سکتی؟ میری رائے کے مطابق بغیر انکوائری کے کسی نتیجے پر پہنچا نہیں جاسکتا۔ وزیر اعظم کے خلاف کوئی چارج نہیں۔ اس لئے ان کے بچوں کے خلاف بھی کاروائی ممکن نہیں۔میرے قانونی جواب تین بنیادوں پر ہیں۔ اگر وزیر اعظم کے بچوں کو نیب کے قانون کے تحت ملزم مانا جائے تو بار ثبوت میرے موکل کے سر نہیں۔یہ فوجداری مقدمہ نہیں اس لئے اگر حسن حسین ملزم بھی ہیں تو ان کے خلاف کوئی ثبوت نہین۔ ارسلان افتخار کیس میں عدالت کہہ چکی ہے ٹرائل متعلقہ فورم پر ہو سکتا ہے۔معاملہ تحقیقات کے لئے اداروں کو بھجوایا جاسکتا ہے۔عدالت نے کبھی فوجداری مقدمات کی تحقیقات نہیں کی۔ آرٹیکل 10 ھر شخص کو شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جناب راجہ صاحب پہلے آپ اپنے دلائل مکمل کرنے کے بعد سوالات کے جواب دیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت میں میاں شریف اور الثانی خاندان کے تعلق کے بارے میں پوچھا گیانیلسن اور نیسکول کے شیئرز اور مالی فائدے کے بارے میں پوچھا گیا۔ٹرسٹ ڈیڈ پر بھی عدالت میں سوال اٹھائے گئے اس سمیت تمام سوالات کا جواب دونگا۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں انٹرویو میں کہی گئی باتوں کا معاملہ ہوچکا ہے۔ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ عوامی مفاد کے مقدمے میں کسی کو ملزم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ قانون کے مطابق بنائے گئے اداروں کو ان کا کام کرنے دیا جائے ۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل اور دیگر مقدمات میں دیگر اداروں سے کام لیاسپریم کورٹ خود انکوائری نہیں کر سکتی صرف کمیشن بنائے گئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کمیشن فوجداری مقدمے کے طرح ٹرائل کر سکتا ہےکیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ پہلے اپنے دلائل مکمل کریں اور دلائل کے اختتام پر ایسے قانونی سوالوں کے جواب دیں۔ جسٹس اعجاز افضل ہے کہا کہ حسین نواز نے لندن فلیٹس کی ملکیت کی اس پر کوئی سوال نہیں ۔ کیا یہ وضاحت کی جاسکتی ہے کہ یہ فلیٹس کیسے خریدے گئے ۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ موقف ہے کہ حسن نواز نے لندن فلیٹس دادا کے کاروبار کے ذریعے لئے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ فلیٹس وزیر اعظم کہ ہیں۔ درخواست گزار فلیٹس کے لئے 1999 کے لندن عدالتی فیصلے کا سہارا لیتا ہے۔دونوں طرف کے حقائق جاننے کے بعد عدالت معاملہ کسی مناسب فورم پر بھیج سکتی ہے این آئی سی ایل اور حج کرپشن کیس میں عدالت نے دوسرے فورم سے تحقیقات کرائیں۔عدالت کے پاس کمیشن بنانے کا بھی اختیار ہے۔کیا عدالت 184/3 کے تحت کسی دوسری عدالت کے اختیار لے سکتی ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کہا کہ حسین نواز نے لندن فلیٹس کی ملکیت تسلیم کی ہے۔ ملکیت پر کوئی تنازعہ نہیں۔ کیا یہ وضاحت مانگی جا سکتی ہے کہ یہ فلیٹس بچوں نے کیسے خریدے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ فلیٹس حسین نواز نے اپنے دادا کے کاروبار سے لیے۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ یہ فلیٹس وزیراعظم نے غلط طریقے خریدے۔ ریکارڈ پر ایسی کسی بھی بدعنوانی کا ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔ یہ نہیں کہاجاسکتا عہدے کے استعمال سے لندن فلیٹس خریدے گئے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ یہ بھی کہا گیاکہ رحمان ملک نے اپنی رپورٹ تیار نہیں کی تھی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ذاتی تشہیر کے لئے رحمان ملک نے وہ رپورٹ صدر مملکت کو بھجوائی اور میڈیا میں جاری کی۔رحمان ملک نے معطلی کے دوران لندن فلیٹس کے بارے میں رپورٹ تیار کی۔رحمان ملک کو سرکاری سطح پر کوئی تحقیقات نہیں سونپی گئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ رحمان ملک نے رپورٹ میں جن اکائونٹس کا ذکر کیا گیا کیا اس سے انکار کر سکتے ہیں۔حسن اور حسن نواز نے وکیل سلمان اکرم راجہ نے رحمان ملک کی رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ لاھور ہائی کورٹ بھی رپورٹ کو مسترد کرکے ملزمان کو بری کر چکی ہے۔قانون کی نظر میں رحمان ملک کی رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں۔ شیزی نقوی کا لندن میں دیا گیا بیان حلفی رحمان ملک کی رپورٹ کی بنیاد پر تھا۔یہ ثابت ہے 1999 میں فلیٹس وزیر اعظم توکیا شریف خاندان کے بھی نہئں ۔93 سے 96 کے دوران الثانی خاندان نے یہ فلیٹس خریدے۔ جنوری 2006 میں الثانی خاندان نے فلیٹ کی بیریئر سرٹیفیکیٹ حسین نواز کے حوالے کئے۔ جولائی 2006 میں یہ بیریئر سرٹیفیکیٹ کرکے شیئرز منروا کمپنی کو ملے۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ اس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ کب پیش کرینگے راجہ صاحب؟ آپ پہلے سن سے ادھر ادھر کی چھلانگیں لگا رہے ہیں۔۔ دستاویز ہیں تو دکھائیں۔ الزام یہ ہے کہ مریم نے منروا سے رابطہ کیا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ منرو سروسز فلیٹس کی دیکھ بھال کرتی ہے۔حقائق کے ساتھ جوا نہیں کھیلوں گا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ معاملہ ایمانداری کا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ قطری خاندان سے سیٹلمنٹ کے بعد کمپنیوں کے سرٹیفکیٹ ملے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا سیٹلمنٹ حماد بن جاسم سے ہوئی یا الثانی خاندان سے؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سیٹلمنٹ محمد بن جاسم سے ہوئی، محمد بن جاسم کے بڑے بھائی 1991 اور والد جاسم 1999 میں وفات پا گئے تھے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ محمد بن جاسم سے کمپنیوں کے سرٹیفکیٹس حسین نواز کو کیسے ملے؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دوسرے قطری خط میں لکھا ھے یہ سرٹیفکیٹ ڈیلیورذ کیے گئے، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ قطری خط میں نہیں لکھا کہ سرٹیفکیٹ حسین نواز کو دئیے۔اب تو ہمیں خطوط زبانی یاد ہو گئے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سرٹیفکیٹس الثانی خاندان کے نمائندے نے حسین نواز کے نمائندے کے حوالے کیے، جسٹس عظمت نے کہا کہ درست ہے یا غلط ریکارڈ میں سرٹیفکیٹ حوالگی کا بتایا گیا ہے۔ جسٹس اعجاز الحسن نے استفسار کیا کہ دبئی فیکٹری کے 12 ملین درھم الاثانی خاندان کے پاس پڑے رھے؟26 سال تک یہ پیسہ بڑھتا رھا؟کیا اس سرمایہ کاری کا دستاویزی ثبوت موجود ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ ریکارڈ نہیں رکھا گیا، ریکارڈ رکھا گیا ہوگا مگر اس وقت دستیاب نہیں ہے ۔ 1999 میں شریف فیملی کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا تھا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ حسین نواز نے کہا کہ دادا نے فلیٹس ان کی تعلیم کے لیے خریدے۔دو طالب علموں کے لیے لندن میں چار فلیٹس کا بندوبست کیا گیا۔ حسین نواز کو ساری باتیں بتانے والاکون ہے؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تیسرا طالب علم حمزہ شہباز بھی تھا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آج آپ ایک اور طالب علم سامنے لے آئے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یقین سے نہیں کہہ سکتا میرا خیال ہے حمزہ شہباز بھی لندن میں طالبعلم تھے۔حمد بن جاسم کے نمائندے ناصر خمیس نے حسین نواز کو بتایا تھا۔ ناصر زندہ ہے عدالت اسے طلب کر سکتی ہے جسٹس عظمت نے کہا کہ کان وہاں سے پکٹیں یا یہاں سے بات وہی ہے سب باتیں مان لیں بتائیں حسین نواز کی ملکیتی دستاویزات کہاں ہیں ۔سوال ایک ہی ہے جس کا جواب مچھلی کی طرح پلٹا نہیں جارہا۔ دلائل دیتے ہوئے وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 1999 میں شریف فیملی کا تمام ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا تھا جس کے باعث شریف فیملی کا ریکارڈ غائب ہو گیا، جو ریکارڈ موجود ہے اس پر عدالت میں جواب دوں گا کیونکہ 45 سال پرانا ریکارڈ عدالت میں پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ شاہی خاندان شریف فیملی کو تحائف بھی دیتے رہتے ہیں جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ تحائف یکطرفہ ہیں یا شریف فیملی بھی تحائف دیتی ہے، اس کے جواب میں سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس حوالے سے زیادہ تفصیلات کا علم نہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پوچھا کہ1999 میں شریف خاندان کا ایک بچہ لندن میں تھا، بچے کی رہائش کے لیے 4 فلیٹس کیوں لیے گئے، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ شریف خاندان 1993 سے لندن میں مقیم ہے، ممکن ہے شریف خاندان کا کوئی اور بچہ بھی لندن میں ہو، اس حوالے سے تفصیلات لے کر عدالت کو بتاؤں گا۔ صرف رہائش رکھنا ملکیت ظاہر نہیں کرتا، حسن نواز کو عزیزیہ مل کی فروخت سے بھی رقم ملی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ قطری سرمایہ کاری 26 سال الثانی خاندان کے پاس رہیں، میاں شریف کی ہدایت پر الثانی خاندان بوقت ضرورت رقم بھی فراہم کرتا تھا تو قطری سرمایہ کاری اور معاملات طے ہونے کا کوئی تو ریکارڈ ہو گا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میاں شریف کی زندگی میں حسن نواز کو بزنس کے لیے قطری فنڈ دئیے تھے، جدہ مل کے لیے بھی فنڈز کا بندوبست میاں شریف نے خود کیا تھا جو 2005 میں 63 ملین ریال میں فروخت ہوئی۔ اتفاقی طور پر جدہ مل خریدنے والی کمپنی کا نام اتفاق تھا، شریف فیملی کے ساتھ صرف ایک شاہی خاندان کے تعلقات نہیں تھے لیکن بعض وجوہات کی بناء پر دیگر شاہی خاندانوں کے نام عدالت کو فراہم نہیں کئے جا سکتے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ موڈ گیج کی دستاویزات پر دستخط کس نے اور کس کے کہنے پر کیے؟ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ میرے خیال میں حسین نواز یا مریم نے ہدایات دی ہوں گی۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ ہم اس دلدل میں مزید دھنستے جا رہے ہیں، نئے سے نئے مفروضے سامنے آتے جا رہے ہیں، بدقسمتی سے ہم سوال زیادہ پوچھ رہے ہیں لیکن کوئی فریق بھی مکمل سچ سامنے نہیں لا رہا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں ملزم ہوں نہ ہی گواہ جبکہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عدالت میں سب کچھ چھپایا گیا، میاں شریف اور شیخ جاسم کے تعلقات کو نکالیں تو صرف 2 دستاویزات عدالت کے سامنے نہیں، صرف منروا اور ٹرسٹی سروسز کے ساتھ معاہدے عدالت کے سامنے نہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ قطری خاندان اور شریف خاندان کے درمیان معاملات طے ہونے کے دستاویزات بھی نہیں ملیں، یہ نہ تو فوجداری مقدمہ ہے اور نہ کرمنل ٹرائل کر سکتے ہیں، اگر سوال جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا تو پیاز کی طرح ایک کے بعد ایک پرت سامنے آتی جائے گی، سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں ہم سوالات کا سلسلہ کہاں جا کر روکیں گے اور یہ معاملہ کیسے نمٹے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ارینا کمپنی کو منروا سے رابطے کی ہدایت کس نے کی؟ سلمان اکرم نے جواب دیا کہ حسین نواز نے ارینا کمپنی کو رابطے کی ہدایت کی ہو گی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ منروا کے جواب میں کہیں نہیں لکھا کہ مریم نواز کے دستخط جعلی ہیں جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ منروا کمپنی نے 2005 کے دستاویز سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ لندن فلیٹس کو 2008 میں بینک کے پاس گروی رکھوایا گیا تھا، گروی رکھوانے کے دستاویزات پر کس کے دستخط تھے؟ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ حسین نواز نے انٹرویو میں کہا تھا کہ موڈ گیج کی رقم آج تک ادا کر رہے ہیں جب کہ جسٹس اعجاز افضل نے زور دیا کہ مصدقہ دستاویزات آخر کون فراہم کرے گا؟ صورتحال عجیب ہے، اصل معلومات تک رسائی کیسے ممکن ہو گی؟ درخواست گزار نے دستاویزات دینے سے معذوری ظاہر کر دی ہے اور آپ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، ہم اس معاملے سے کیسے نمٹیں؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل ہو رہا ہے نہ کہ تحقیقات کہ تفتیشی افسر دستاویزات کی تصدیق کرا کے لائے، تمام دستاویزات حسین نواز ہی فراہم کر سکتے ہیں، جو ریکارڈ دستیاب ہے عدالت کو فراہم کر دیا ہے، مزید بھی جو کچھ ممکن ہوا فراہم کریں گے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ ایک نہ ایک دن تو ریکارڈ سامنے آنا ہی ہے، حسین نواز کے کہنے پر منروا کمپنی ریکارڈ فراہم کر سکتی ہے جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حسین نواز سے کہوں گا کہ منروا سے 2006 کا ریکارڈ حاصل کریں۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ آپ کو ریکارڈ فراہم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئیے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حسین نواز کے نمائندے نے منروا کمپنی کے نمائندے کو بھی خط لکھا، خط مریم نواز کے بینیفشل مالک ہونے کی دستاویز سے متعلق تھا لیکن ای میل کے جواب میں منروا کمپنی نے دستاویز کی تردید کی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ حسین نواز نے منروا کمپنی کو خود خط کیوں نہیں لکھا جب کہ جسٹس گلزار احمد نے پوچھا کہ اگر شیئرز سرٹیفکیٹ گم ہو جائیں تو مالک کس سے رابطہ کرے گا؟ رابطہ کرنے پرشیئر ہولڈر ہونے کا ثبوت بھی دینا ہو گا، کمپنیوں اور شیئرز کا ریکارڈ کہیں نہ کہیں تو موجود ہوتا ہی ہو گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے معاملہ ریکارڈ پر نہیں یادداشت پر چلتا ہے جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ منروا کمپنی کا خط بھی یادداشت پر مبنی ہے، آخر منروا سے متعلق ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جنوری 2006 کے بعد منروا کی خدمات حاصل کی گئی تھیں، جولائی 2006 میں شیئرز منسوخ کر کے منروا کے نام پر جاری ہوئے، 2014 میں منروا کی سروسز ختم کر دی گئی اور شیئرز ٹرسٹی سروسز کو منتقل ہو گئے، اب یہ منروا کی صوابدید ہے کہ وہ کیا ریکارڈ دیتی ہے اور کیا نہیں، کوشش کروں گا کہ زیادہ سے زیادہ ریکارڈ دے سکوں، شیئرز کی منتقلی حسین نواز کی ہدایت پر کی گئی اور سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہی مالکان کا پتہ ہوتا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ منروا سے پہلے کون سروسز فراہم کرتا تھا، جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ رحمان ملک رپورٹ کے مطابق کوئی دوسری کمپنی یہ سروسز فراہم کرتی تھی، ناصر حمید زندہ ہے عدالت اسے طلب کر سکتی ہے۔ عدالت نے سلمان اکرم راجہ کو دلائل کل تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔