لاہور خودکش حملہ : شہداء کی تدفین، 3مفرور دہشتگردوں کی تلاش

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ :!لاہور میں گزشتہ روز مال روڈ پر خودکش حملے میں شہید پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے۔ جبکہ سرکاری طور پر صوبہ بھر میں سوگ منایا گیا ، واضح رہے کہ گزشتہ روزپنجاب اسمبلی کے سامنے مال روڈ پرعین اس وقت خودکش حملہ ہوا تھا جب پولیس کے اعلی حکام وہاں احتجاج کرنے والوں سے مزاکرات کررہے تھے، واقعے میں ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سمیت 7 پولیس اہلکار اور 6 عام شہری جاں بحق ہوئے تھے جب کہ درجنوں زخمی شہر کے مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔
پنجاب کے وزیر قانون نے لاہور کے مال روڈ پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث افراد کی 4 تعداد بتاتے ہوئے اسے پولیس پر حملہ قرار دے دیا۔

نجی نیوز چینل سے گفتگو میں صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں لگے کیمروں کی فوٹیج میں حملے کے مقام پر 2 مشتبہ لوگوں کو آتے دیکھا گیا۔

رانا ثناءاللہ کے مطابق یہ ’2 مشتبہ افراد پیدل چلتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ سے مال روڈ کی جانب آئے، دو افراد میں ایک شخص 30 سے 35 سال کی درمیانی عمر کا ہے جو شاید اس حملے میں ہینڈلر ہوسکتا ہے جبکہ دوسرے مشتبہ شخص کی عمر 15 سے 17 سال کے لگ بھگ ہے جو کہ مبینہ خودکش بمبار ہے’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘کیمرے میں دونوں حملہ آوروں کے چہرے قابل شناخت ہیں’۔

رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل مال روڈ کے ایک جانب ڈی آئی جی پولیس اور ایس ایس پی آپریشنز دیگر اہلکاروں کے ہمراہ موجود تھے جبکہ ان کی دوسری جانب مظاہرین کا ہجوم تھا، حملہ آوروں کا نشانہ پولیس تھی لہذا انہوں نے پولیس کی سمت میں بڑھ کر خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

وزیر قانون کے مطابق ابتدائی طور پر سامنے آنے والے ان تمام شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کو آگے بڑھا رہے ہیں، تاہم ‘جیو فیسنگ اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو آن ایئر کرنا تحقیقاتی کام کو متاثر کرسکتا
رانا ثناءاللہ کا بتانا تھا کہ ’35 سالہ اس مشتبہ ہینڈلر نے خودکش بمبار کو دھماکے سے متعلق ہدایات جاری کیں اور خود فاصلے پر کھڑا رہا’۔

دھماکے کو پاکستان کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان میں لوگوں کا اعتماد بحال ہورہا تھا، اسٹاک ایکسچینج اوپر جارہا تھا، پی ایس ایل فائنل لاہور میں منعقد ہونے والا تھا، ملک میں باہر سے لوگ آرہے تھے اور ابھی کچھ دنوں پہلے ہی کئی ممالک کے سفیر پاکستان میں موجود تھے، یہ دھماکا ان تمام چیزوں کو متاثر کرنے کی سازش ہے’۔

ایس ایچ او سول لائنز تھانے کی مدعیت میں دھماکے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانےمیں درج کرلیا گیا، مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق چیئرنگ کراس پر ہونے والے خود کش حملے میں 4 دہشت گرد ملوث تھے جن میں سے ایک نے خود کو دھماکے سے اڑالیا اور باقی 3 دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
تحقیقاتی اداروں کو جائے وقوع سے انسانی ہاتھ کی انگلیاں، جبڑا اور ٹانگ ملی ہے جس کا تعلق حملہ آور سے ہونے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو روانہ کی گئی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں حملہ آور کی عمر بیس سال بتائی گئی۔

ابتدائی رپورٹ میں خودکش دھماکے میں 6 سے 8 کلو بارودی مواد کے استعمال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ زیادہ تر اموات کی وجہ بارودی مواد کے ساتھ موجود بال بیئرنگ کو قرار دیا گیا ہے۔
منگل کو ایلیٹ پولیس ٹریننگ اسکول بیدیاں میں ڈی آئی جی ٹریفک سید احمد مبین، ایس ایس پی زاہد گوندل سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی گئی، نمازجنازہ میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف، گورنر پنجاب رفیق رجوانہ، کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی، وزیرقانون پنجاب رانا ثناءاللہ اور دیگراعلیٰ سیاسی، سرکاری اورعسکری شخصیات نے شرکت کی، نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد ڈی آئی جی ٹریفک احمدمبین شہید کیولری گراؤنڈ کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا جب کہ دیگر شہدا کے جسد خاکی ایمبولینسوں کے ذریعے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردیئے گئے۔
سانحہ مال روڈ پرلاہورکی فضا سوگوار ہے، شہر کے تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز اور تجارتی علاقے بند ہیں، پنجاب حکومت کی جانب سے واقعے پرایک روزہ سوگ منایا جارہا ہے جس کے تحت صوبے بھرکی تمام سرکاری، نیم سرکاری اوراہم نجی عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب بار کونسل کی اپیل پرصوبے بھر کی ماتحت عدالتوں میں وکلا یوم سوگ منارہے ہیں، ماتحت عدالتوں میں وکلا کے پیش نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں مقدمات التوا کا شکار ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب لاہور کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں سانحے میں زخمی ہونے والوں کا علاج جاری ہے، اس وقت گنگا را م اسپتال میں 33، میو اسپتال میں 21 اور سروسز اسپتال میں 15 مریض زیر علاج ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر حساس ادارے دھماکے کی تحقیقات کررہے ہیں، دھماکے کی جگہ کے ارد گرد شامیانے اور خاردار تاریں لگا دی ہیں، سی ٹی ڈی اورحساس اداروں کے حکام نے دھماکے کی جگہ سے سیف سٹی کیمروں کی سی سی ٹی وی وڈیو حاصل کرلی ہیں۔