بلاول اور زرداری پارلیمنٹ میں کیوں آرہے؟

پیپلزپارٹی کی شہید قائد محترمہ بینظیر بھٹو کی نویں برسی پر پارٹی قیادت کے فیصلوں سے ملکی سیاست میں کوئی بھونچال آیا اور نہ ہی عوامی سطح پر آصف علی زرداری یا بلاول بھٹو کے پارلیمنٹ میں آنے کے فیصلے کو مقبولیت مل سکی۔ برسی کے تقریب سے قبل خوشخبری اور سرپرائز کے دعوے دھرے رہ گئے۔

محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت آصف علی زرداری کے ہاتھ تو آئی مگر عوامی مقبولیت کا بینظیر ہدف حاصل نہیں کر سکے۔ ان کی شہرت ایک سیاستدان سے زیادہ بروکر اور بدعنوان کے طور پر رہی۔ کہنے کو تو پارٹی میں انکے حامی ” ایک زرداری سب پر بھاری” کا نعرہ لگاتے رہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی نے گذشتہ نو برسوں میں کئی بار عوام اور پارٹی میں مقبولیت کا گراف نیچے ہونے کی وجہ سے انتخاباتی مہموں میں انکی تصویر کو ہی منہا کرکے یہ تاثر دیا کہ اب آصف علی زرداری پارٹی پر بھاری بوجھ بن چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کے حوالے کرنے کا فیصلہ بھی اسی تناظر میں تھا کہ پیپلزپارٹِی پرموجود آصف علی زرداری کی چھاپ عوام ہی نہیں پارٹی کارکنوں میں بددلی پھیلانے اور انہیں پارٹی سے دور کرنے کا موجب بن چکی تھی۔

گو کہ پیپلزپارٹی کے اندرونی دباءو میں آصف علی زرداری نے پاکستان پیپلزپارٹی کا چئیرمین بلاول زرداری کو بنانے کا اعلان کردیا جس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو تھے ۔ 2002ء سے بینظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے نام سے تشکیل کردہ پارٹی انتخابی سیاست میں متحرک رہی اور بھٹو والی پی پی پی ایک کاغذی پارٹی رہ گئی تھی۔ البتہ آصف علی زرداری نے خود کو پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کا سربراہ برقرار رکھا جو پارلیمنٹ اور سیاست میں سیاسی کردار ادا کر رہی تھی۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے نانا کی پاکستان پیپلزپارٹی جس کی حثیت سیاست میں کاغذی جماعت کی رہ چکی تھی ، قیادت سنبھالتے ہی پارٹی کو نئے سرے سے منظم کرنے کا عزم عوام کے سامنے پیش کیا، پیپلزپارٹی کے پرانے کارکنوں کی مشاورت سے پارٹی کے پروگرام اور منشور تیار کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا مگر پارٹی کو زندہ ہوتی نظرآئی نہ کوئی پارٹی پروگرام تشکیل دیا جا سکا البتہ اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی کے سربراہ بننے کے بعد بلاول اپنے والد کی ” امیج ڈسٹنگ ” میں ہی مصروف دکھائی دئیے جس سے پارٹی سے مایوس جیالوں کو متحرک کرنے میں تاحال بلاول نہ صرف ناکام رہے ہیں بلکہ” امیج ڈسٹنگ ” سے اڑنے والی دھول خود بلاول کے سیاسی امیج کو گرد آلود کرنے کا باعث ٹھہری۔

محترمہ بینظیر بھٹو کی نویں برسی پر یقینا بہت بڑا سیاسی سرپرائز ہوتا اگر بلاول کے پاس اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلزپارٹی جس کو زندہ کرنے کا مشن انہوں نے اپنے ذمہ لیا تھا اس پارٹی کا کوئی اچھوتا پروگرام عوام کے سامنے لاتے مگر بلاول کے پاس عوام کے لئے کچھ نہیں تھا اور اس پر بھی کوئی حیرانی نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کے پارلیمنٹ میں آنے کے اعلان میں بھی کوئی سرپرائز نہیں کیونکہ بلاول کو پارلیمنٹ میں لا کر اپوزیشن لیڈر بنوانے کے حوالے سے کئی ماہ سے خبریں عام تھیں۔ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی پرفارمنس یقینا قابل قدر نہیں رہی اور پیپلزپارٹی کی مقبولیت سندھ میں بھی تنزلی کا شکار ہے پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کو پارلیمانی سیاست میں اتارنے کے لئے آئندہ انتخابات کے انتظار کا رسک لینے کے لئے تیار نہیں کہ پارٹی قیادت کو اپنی کارکردگی بنیاد پر سندھ میں مقبولیت کی کمی کا زیادہ یقین ہے اس لئے اپنی حکومت میں ہی ضمنی انتخابات کروا کر بلاول اور زرداری کو بری پرفارمنس کے باوجود عوام میں مقبول ظاہر کرنے کے لئے جتوایا کر پارلیمنٹ میں لانے کا لائحہ عمل اختیار کر رہے

پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول کو اپوزیشن لیڈر بنوانے کا ایک اور مقصد انکو سیکیورٹی اور پروٹوکول کی فراہمی یقینی بنانا ہے جو کہ اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد انہیں حاصل ہو سکتی ہے تاکہ وہ ملک بھر میں ریاستی سیکیورٹی استعمال کرتے ہوئے آئندہ انتخابات کے لئے مہم چلانے میں سہولت محسوس کرینگےجبکہ آصف علی زرداری اپنے فرنٹ مینوں پر چھاپوں ، مقدمات اورگرفتاریوں کے بعد خود کو کسی متوقع خطرےبچانے کے لئے پارلیمنٹ کی رکنیت کی حفاظتی شیلڈ اوڑھنے سے زیادہ کچھ ایجنڈا نہیں رکھتے ہیں۔

پیپلزپارٹی کی شہید چئیرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو کی نویں برسی پر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کا پارلیمنٹ میں آنے کا اعلان ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب کریگا یہ تو پارٹی قیادت کے خطابات سے ہی عیاں ہے کہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری پارلیمنٹ میں نواز شریف حکومت کو کسی خطرے سے دوچار کرنے نہیں بلکہ مدد کرنے آرہے ہیں کہ اندریں حالات اسی میں بلاول بھٹو زرداری اورآصف علی زرداری کی بقاء مضمر ہے مگر اس سے پیپلزپارٹی کی عوام میں مقبولیت اور سیاسی بقاء کہاں تک محفوظ ہو سکتی تاحال ایک سوال ہے۔