وزیراعظم کیخلاف تحریک استحقاق کس کا طے شدہ منصوبہ ؟

یقینا یہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کا پاناما لیکس پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا طے شدہ منصوبہ تھا کہ تحریک انصاف نے بائیکاٹ ختم کرکے پارلیمنٹ میں جانے کی ٹھانی ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پانامالیکس کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے جہاں پی ٹی آئی مایوس ہوئی وہاں عوامی سطح پر حیرانی کا اظہار کیا گیا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم کی تقاریر کے حوالے سے بحث کرانے کا اصولی فیصلہ کیوں کیا؟ اقتدار کی غلام گردشوں میں یہ تاثر نمایاں ہے کہ شائد وزیراعظم قومی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب کے حوالے سے وضاحتی بیان دیکر سپریم کورٹ میں درپیش مسائل سے نکلنے کی سعی کرینگے۔ جس کا موقع سپریم کورٹ بنچ نے پانامالیکس کیس کی ازسر نو سماعت کا فیصلہ کرکے فراہم کردیاتھا جبکہ پاناماانکوئری بل 2016 ء بھی پارلیمنٹ کے سینٹ اور قومی اسمبلی دونوں ایوانوں کا ایجنڈا ہے -

بدھ کو قومی اسمبلی میں سپیکرایاز صادق نے گو کہ پاناما کیس کے حوالے سے اپوزیشن کی تحریک استحقاق کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت معاملہ ایوان میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔ تاہم مسلم لیگ ن کے طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے خطابات کے حوالے سے معاملہ قومی اسمبلی میں زیر بحث لانے کے لئے راستہ نکالنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

آئین کے آرٹیکل 68 اور 69 کے تحت ججوں کے کنڈکٹ کو ایوان میں زیر بحث لانے کی ممانعت ہے مگرآئَین کا آرٹیکل 66 اراکین پارلیمنٹ کو ہر موضوع زیر بحث لانے کا حق بھی دیتا ہے۔ اپوزیشن نے قومی اسمبلی اجلاس میں تحریک استحقاق یقینا وزیراعظم کے خطابات میں تضاد کے حوالے جمع کرائی تھی ناکہ سپریم کورٹ یا ججز کے کسی معاملے کے حوالے سے اور وزیراعظ٘م سے ہی جواب مانگا گیا تھا۔ بادی النظر میں وزیراعظم کو خطابات کے تضادات کو دور کرنے کا موقع ہی فراہم ہوتا تھا جس پر حکومت کا اعتراض شائد بنتا بھی نہیں۔

بدھ کو پارلیمنٹ میں ہونے والے “نورا ہنگامے” کا مقصد شائد اس تاثر کو ابھرنے سے روکنا تھا کہ تحریک انصاف یا پیپلزپارٹی دراصل پاناما لیکس کے معاملہ پر وزیراعظم کوسپریم کورٹ میں درپیش تقریروں کے تضادات والے معاملہ سے نکالنے کا طے شدہ فریضہ ادا نہیں کر رہی بلکہ وزیراعظم کو پارلیمنٹ کا جوابدہ بنا رہی ہے۔

سیاسی پوائنٹ سکورننگ کے لئے حکومت اور اپوزیشن میں یہ بحث تو چلتی رہیگی کہ وزیراعظم خود جوابدہ ہونا چاہتے ہیں یا اپوزیشن کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق کے جواب میں پاناما لیکس کے لندن فلیٹس کی خریداری بارے منی ٹریل کے ابہام کو دور کرنے کے لئے نیا بیان دیتے ہیں۔ چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر کے مصداق معاملہ ہے۔