ہیلری کو کس نے ہروایا؟

امریکا کے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے تین بڑے محرکات رہے۔ ہیلری کلنٹن مناسب امیدوار نہیں تھیں ۔ ماضی میں ڈیموکریٹس نے امریکا میں موجود نسلی امتیاز کے خاتمے کا جھانسہ دیکر اوباما کو کامیاب کروایا تھا اسی تجربہ کے پیش نظر ڈیموکریٹس نے موجودہ الیکشن میں صنفی بنیاد پر خاتون کو امیدوار بنا کر انتخابی میدان میں اتارا تھا مگر یہ تجربہ ناکام رہا ۔ ڈونلڈ کو اپنے موقف کو بھرپور انداز میں عوام تک پہنچانے کے لئے امریکی میڈیا پر مفت ائیر ٹائم کی سہولت حاصل رہی ۔ ٹرمپ کی شکست کا پراپیگنڈہ کرنے والے امریکی عوام کے اس بڑے حصے کو تجزیاتی مہم جوئی میں نظر انداز کرتے رہے جو ڈیموکریٹس کی پالیسیوں سے ناراض تھا۔

امریکی ووٹرز کوقومی پالیسی معاملات پر ڈیموکریٹس کی آٹھ سالہ اوباما حکومت میں انکی رائے نظر انداز کرنے کا بھی شکو ہ تھا۔امریکا کو محفوظ بنانے کے نام پرامریکی ووٹرز کے ٹیکسوں کو دہشتگردی کیخلاف جنگ پر خرچ کیا جاتا رہا مگر اس محاذ پر کامیابیوں سے زیادہ ناکامیاں ہوئیں اور امریکی عوام میں اپنے وسائل دہشتگردی کیخلاف جنگ کے نام پر لوٹے جانے کا غصہ رہا ۔ڈیموکریٹس کی پالیسیوں کے باعث ورکنگ کلاس کے معیار زندگی میں انحطاط پذیری بھی ووٹرز کی ناراضی کی بڑی وجہ رہا جس کے باعث ہیلری کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔امریکی ووٹرز ڈیموکریٹ انتظامیہ کی ’’ نئی معیشت ‘‘پالیسی پر بھی نالاں تھا جس سے مہنگائی بڑھی اور ملازمتوں کے مواقع میں کمی واقع ہوئی ۔ ڈیموکریٹس انتظامیہ کی پالیسیوں کے باعث ان کے بچوں کا مستقبل غیر یقینی سمجھتے ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن صدارتی انتخابی مہم میں ایسا کوئی پروگرام پیش کرنے میں ناکام رہیں جو عام امریکی ووٹر ز سے بھاری حمایت ملنے کا باعث بنتا ۔ ہیلری کلنٹن نے انتخابی مہم کو مخالف امیدوار پر الزام تراشی جیسے سطحی حربوں تک محدود رکھا جیسے کہ ٹرمپ پر روسی ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا ۔دوسرا یہ کہ اوباما کو امریکی عوام نے بش دور کی سماجی ناہمواری بڑھانے اور جنگی پالیسیوں کیخلاف دوبار’’ امید اور تبدیلی‘‘ کے استعارہ کی صورت صدر منتخب کیا مگر امریکی عوام کی عطا کردہ آٹھ سالہ دور اقتدار میں ڈیموکریٹس کی اوباما حکومت اس تبدیلی کی بنیاد ہی نہیں رکھ سکی جس کی امید پر اوباما کو دو بار اقتدار دیا تھا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے منتخب صدر وباما دونوں ادوار میں نہ ختم ہونے والی جنگ ، امیر کو امیر تر ،اور عام امریکی عوام کے معیار زندگی گو انحطاط کا شکار رکھنے کی پالیسیوں کا جاری رکھا۔ انتخابات کے عین قریب اوباما کے ہیلتھ کیئر پیکج کا نتیجہ یہ نکلا کہ علاج معالجہ دہری ہندسے تک مہنگا ہو گیا۔ امریکا میں مزدوروں کی حقوق کی جدوجہد کو قومی معیشت کے نعرہ تلے روندنے کا لائحہ عمل بھی صدارتی اتنخابات میں ڈیموکریٹس سے امریکی مزدور کی دوری کا باعث ٹھہرا۔

منگل کو امریکی ووٹرز نے ٹرمپ کی حمایت سے زیادہ اپنی ڈیموکریٹس سے ہی نہیں بلکہ امریکاکے ہر ادارے سے ناراضی کے اظہا ر میں ووٹ کا حق استعمال کیا جس کو وہ اپنے معیار زندگی کی گراوٹ ، بے روزگاری اور اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے درست پالیسی سازی کو یقینی نہ بنانے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں ۔ بادی النظر میں امریکی عوام نے تمام امریکی اداروں کو یہ پیغام دیا ہے کہ عام امریکی ووٹر کی آمدنی تنزلی کا شکار ہے انہیں ریٹائرمنٹ فنڈز میسر نہیں ، ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں ۔امریکا کی سرحدیں محفوظ نہیں اور جس دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ان کے ٹیکسوں کو جھونک دیا گیا ان محاذوں سے فتح سے زیادہ ناکامی کی خبریں سننے کو ملیں۔

امریکا میں دوجماعتی سیاسی نظام پر سرمایہ داروں کی اجارہ داری ہے۔ ڈیموکریٹس اور ری پبلکن دونوں ہی بڑے کاروباروں کے سیاسی ہتھیار ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی صدر منتخب ہونا پوری دنیا ہی نہیں خود امریکا کے لئے بھی بری خبر ثابت ہوئی ، کئی غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی واقع ہوئی۔ صدارتی انتخابات نے امریکی سماج میں موجود طبقاتی جنگ کو مزید واضح کر دیا ہے کہ افریقین امریکی مزدوروں اور نوجوانوں نے صدارتی انتخابات میں رنگ ، نسل اور صنف کے نام پر عوام کو تقسیم کرنے والی سرمایہ داروں کی باجگزار جماعتوں کو مسترد کردیا ہے جو سٹیٹس کو برقرار رکھنے کی حامی ہیں ۔

امریکا کے صدارتی انتخابات سے متعلقہ مزید ویڈیو تجزیہ کے لئے نیچے دئیے لنک پر کلک کریں ۔

خصوصی تجزیہ : ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے کونسے تین بڑے محرکات رہے؟