نئے انتخابات کی تیاریاں شروع

شہر اقتدار کی غلام گردشوں میں عمران خان  کے اسلام آباد لاک ڈاءون اعلان کا بینظیر لانگ مارچ سےموازنہ کیوں کیا جا رہا؟  مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی اور ُجمہوریت بجاءو اتحادیوں “کو عمران خان کے اسلام آباد لاک ڈاءون احتجاج سے بینظیر بھٹو کے 93ء والے لانگ مارچ جیسی کسی ” اسٹیبلش مہم” کی بو بھی کیوں محسوس ہو رہی ہے؟

اقتدار کی غلام گردشوں میں وزیراعظم نواز شریف کو فوج سے تناءو اور عوامی پاور شو کی صلاحیت رکھنے والے عمران خان سے درپیش چیلنجز کا موازنہ 93ء کے حالات سے کیا جا رہا ہے جب اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف میں ٹکراءو کی کیفیت تھی ۔ گو کہ نواز حکومت نے صدر اسحاق خان کے اسمبلی توڑنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ سے کالعدم قرار دلوا لیا تھا مگر سیاسی ہیجان پر قابو نہیں پا سکے تھے۔

نواز شریف نے 93ء میں گو کہ پیپلزپارٹی کے سیاسی لانگ مارچ کو اسلام آباد ہی نہیں پورا پاکستان خود لاک ڈاءون کرکے ناکام بنا دیا تھا تاہم اس لانگ مارچ کے باعث نواز شریف حکومت کے ساتھ صدر غلام اسحاق دونوں کا ہی دھڑن تختہ ہوا۔ اعلی عدلیہ کا نوازحکومت کو آئینی مدت مکمل کرنے کے لئے دیا فیصلہ بھی نواز شریف کے اقتدار کی آئینی مدت مکمل کروانے کی ضمانت نہیں بن سکا تھا اور انہیں خود مستعفی ہونے کا اعلان کرنا پڑا ۔

پاناما لیلکس کا معاملہ جس پر عمران خان نے وزیراعظم کو احتساب کے خود کو پیش کرنے یا مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کے لئے اسلام آباد لاک ڈاءون کا اعلان کر رکھا ہے سپریم کورٹ میں سماعت کا مستحق پا چکا اعلی عدلیہ نے وزیر اعظم سے جواب طلب کر لیا ہےجس کا جواب وزیراعظم کی طرف سے قانونی جنگ لڑنے کے لئے تیار ہونے کی صورت آگیا۔

دوسری طرف قومی سلامتی پر اعلی سطحی اجلاس کی خبر لیک ہونے یا فیڈ ہونے کا معاملہ تاحال حل طلب ہے اگرنواز حکومت اس معاملہ کو احسن طریقے سے فوج سے ڈیل نہیں کر پائی تو اس نیوز لیک یا فیڈ کی ذمہ داری کسی پر عائد ہوتی ہے تو بھی معاملہ  بہر صورت عدلیہ میں ” نیوز گیٹ” کی صورت حکومت کے لئے بڑا چیلنج بنے گا۔ معاملہ محض خبر تک محدود دکھائی نہیں دیتا بلکہ اس کے پیچھے سول اور ملٹری قیادت میں خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر اختیارات کی کشمکش نمایاں ہے جس کا اشارہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے آئندہ ماہ وزیر خارجہ کے تعین کے امکان کی صورت دیا اور بلاول زرداری نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو پارلیمنٹ کے تابع کرنے کے لئے وزیراعظم سے مطالبات کی صورت  بیان کیا ہے۔

خورشید شاہ کا عندیہ اور بلاول زرداری کے مطالبات  بین السطور میں وزیراعظم کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے آصف علی زرداری کی پالسی کے مطابق پیپلزپارٹی کی حمایت ہی قرار پائے گا نہ کہ حکومت کی مخالفت میں اسٹیبلشمنٹ کوئی پیغام ۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ بھی وزیر اعظم کے ڈگڈی والے بیان پر اپنا تفسیری بیان داغتےہوئے ڈگڈی کسی غیر سیاسی قوت کے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں اور ناچنے والوں کو اسلام آباد لاک ڈاءون کرنے کا اعلان کرنے والے قرار دیتے ہوئے اپنا وزن جمہوری ترازو کے حکومتی پلڑے میں ڈال رہے ہیں تاہم پاناما لیکس پر عدلیہ کا ترازو بھی وزن تولنے کے لئے تیار ہے۔

گذشتہ جمعرات کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن کے پانامالیکس پر پیش کئے گئے بل پر بحت پیپلزپارٹی اپوزیشن لیڈر سینٹ اعتزاز احسن کی درخواست اور وفاقی وزیر قانون اور لیگی اراکین کے اتفاق سے آئندہ ماہ نومبر کے اجلاس تک موخر کردی تھی۔ مگر حکومت اور پیپلزپارٹی پانامالیکس بل پر پارلیمنٹ میں پیش رفت رکنے کا ذمہ دار تحریک انصاف اور عمران خان کو ہی قرار دے رہے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے تو ببانگ دہل اسلام آباد لاک ڈاءون کے پیچھے کسی جرنیلی سوچ کو متحرک قرار دیا جس پر پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے نواز شریف کے خلاف بنظیر بھٹو لانگ مارچ کے پس پردہ محرکات کو انتہائی سلیقے سے بے نقاب کر تے ہوئے قرار دیا کہ وہ 93ء میں پیپلزپارٹی کا حصہ تھے جن حالات میں محترمہ بینظیر بھٹو نے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا تھا بہت سے باتیں ان کے علم میں ہیں مگر وہ اس لانگ مارچ کے بینظیر فیصلہ کو کسی کے اشارے پر نہیں ، معروضی حالات میں سیاسی حکمت عملی ہی سمجھتے ہیں۔

دو نومبر کو عمران خان کی اسلام آباد لاک ڈاءون کی کال سے نمٹنے کے لئے حکومت کئی آپشنز پر غور کر رہی ہے اس ضمن میں پی ٹی آئی کے رہنماووں سے بھی دھرنا کو پرامن رکھنے کے لئے قائل کرنے پر مذاکرات کا آپشن اختیار کیا جا رہاہے۔ اگر اسلام آباد لاک ڈاءون ہوتا ہے تو پھر شائد سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس پر سماعت التواء کا شکار ہو جائے جو یقینا عمران خان بھی نہیں چاہیں گے۔

سرحدوں پر خطرات ، اندرونی سلامتی کے چیلنجز، عالمی سطح پر تنہائی کے اندیشوں ، پانامالیکس اور قومی سلامتی اجلاس کی خبر کے معاملہ پر سول ملٹری نتاءو کے تناظر میں اسلام آباد لاک ڈاءون سے جمہوریت کو لاحق اندیشوں نے سیاسی منظر نامے پر چھائی بے یقینی کی گھٹائیں مزید گہری کر دیں ہیں۔ ایسے حالات میں اسٹیبلشمنٹ بھی اسلام آباد لاک ڈاءون سے ملک کو بدامنی کا شکار کرنے کی حمایت نہیں کر سکتی ۔ تاہم آئندہ دس دنوں میں اس صورت حال سے نکلنے کا حل ڈھونڈنے کے لئے شہر اقتدار کی غلام گردشوں میں بہت سے چہ میگوئیاں ، بلواسطہ اور بلاواسطہ رابطوں کی سرگوشیوں میں جو کچھ سٹیک ہولڈرز میں طے پائے گا وہ 93ء لانگ مارچ کی تاریخ کو دہرانے کے مصداق ٹھہرے گا یا سیاست و ریاست کی بالغ النظری کا مظہر ،اس کا تعین فیصلے کرینگے۔

دوسری طرف الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات کیلیے41 نکاتی مجوزہ انتخابی ضابطہ اخلاق تیارکرکے سیاسی جماعتوں کو مشاورت کے لیے ارسال کردیا ہے۔مجوزہ ضابطہ اخلاق میں سیاسی اور انتخابی موقف عوام تک پہنچانے کے لیے امیدوار یا کوئی سیاسی جماعت صرف سرکاری میڈیا کو استعمال کر سکے گی۔ نجی میڈیا یا چینلز پر انتخابی اشتہارات پر مکمل پابندی کی تجویزدی گئی ہے۔ مخالف امیدوارکی ذاتی زندگی پر تنقید کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیاسی جماعتیں اور امیدوار کسی رسمی یا غیر رسمی معاہدے کا حصہ نہیں بنیں گے جس میں مرد و خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھا جائے۔سیاسی جماعتیں خواتین کی انتخابی عمل میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنے کی پابند ہوں گی۔ ذرائع کے مطابق نئے ضابطہ اخلاق پر سیاسی جماعتوں سے 26اکتوبرکو بلائے گئے اجلاس میں مشاورت کی جائے گی۔

سیاسی جماعتیں اورامیدوارملکی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف کوئی بات نہیں کریںگے ۔الیکشن کے دن کسی قسم کا جھنڈ ا، نوٹس، نشان یا بینر آویزاں کرنے پر پابندی ہوگی ۔کوئی بھی جماعت سرکاری جگہ پر اجازت کے بغیر اپنا جھنڈا نہیں لگائے گی۔ 2018ء کے انتخابات میں صنف، نسل، مذہب اور ذات کی بنیاد پرکسی شخص کے انتخاب میں حصہ لینے کی مخالفت نہیں کی جاسکے گی۔ضابطہ اخلاق کے تحت غیرمصدقہ الزامات یا حقائق کو توڑ مروڑکر پیش کرنا ممنوع ہوگا۔ سیاسی مخالفین کے گھرکے سامنے احتجاج اور ناکہ بندی نہیں جائے گی۔

مجوزہ ضابطہ اخلاق کے تحت سیاسی جماعتیں نظریہ پاکستان ، عدلیہ کی آزادی و خودمختاری اور افواج پاکستان کی شہرت کو نقصان پہنچانے پر مبنی کسی رائے کا اظہار نہیں کریں گی۔ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ پیمرا تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں وقت فراہم کرنے کو یقینی بنائے گا۔ میڈیا کے خلاف ہر قسم کے تشددکی پابندی ہوگی۔ سیاسی جماعتیں اور امیدوار الیکشن کمیشن کی ساکھ کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں گے۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، انتخابی بدعنوانی قابل سزا جرم ہوں گے اور خلاف ورزی پر انتخاب کو کالعدم قرار دیاجا سکتا ہے۔

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی اصل جنگ کیا ؟ خصوصی تجزیہ سے متعلقہ وڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دئیے لنک کو دبائیں۔

لنک:حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی اصل جنگ کیا ؟