احستاب کے لئے تیار یا استعفی ؟ وزیراعظم نے فیصلہ کر لیا

مقبضوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی تازہ لہر کو دبانے اور دنیا میں اپنے اقدام کو جائز قرار دلوانے کے لئے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے الزام پاکستان پر دھرنے اور کنٹرول لائن پر سرجیکل اسٹرائیک ڈھنڈورے سے جو چومکھی کا کھیل چھیڑا جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں میں جنگ جنوں کو بڑھاوے کے ثاثر کی صورت نمایا ہوا جس میں کشمیریوں کی آزادی کی نئی لہر کہیں گم ہی ہوتی دکھائی دے رہی ہے دوسری طرف پاکستانی سیاست و ریاست کی قیادت میں تناءو نے معاملے کو ایسا الجھاءو دیا کشمیریوں کیخلاف ہونے والے ہندوستانی مظالم کے بجائے معاملہ پاکستان کے اندر دہشتگردی کیخلاف جنگ پر انگلیاں اٹھنی شروع ہو گئیں۔ جبکہ پاناما لیکس کے تناظر میں وزیراعظم نواز شریف کو تیس اکتوبر کی عمرانی ڈیڈ لائن اور اسلام آباد دھرنے کی صورت سیاسی دباءو کا سامنا ہے۔

ان حساس حالات میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس گو کہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد پر متنج ہوا مگر اس اجلاس میں اپوزیشن وحکومتی اراکین کی عدم دلچسپی ، سٹریٹ پاور کو حکومت کیخلاف متحرک رکھے پی ٹی آئی کی عدم شرکت کے باعث متاثر کن قرار نہیں دیا گیا اور رہی سہی کسر نیشنل ایکشن پلان اور دہشتگرد گروپوں کیخلاف آپریشن کے حوالے سے لیک ہونے والی خبروں نےپوری کردیں تنیجتا قومی قیادت کو پاکستان پر عالمی تنہائی کی لٹکتی تلوار کو ہٹانے کے لائحہ عمل پر غور کرنا لازم ٹھہرا۔

یقینا یہ مسلم لیگ ن اور جمہوریت کے تسلسل کی حامی سیاسی جماعتوں کے لئے اچھے اثرات رکھنے والی پیش رفت نہیں جب پارلیمنٹ میں کرپشن اور غداری کے نعرے ہوں اور ایسے ہی نعروں پر سیاسی جماعتوں کے قائدین جو موجودہ نظام میں حرف آخر کی حثیت رکھتے ہوں انہیں سیاست سے مائنس کئے جانے کی سازشی تھیوریاں کہیں موثر انداز میں عملدرآمد ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کہیں ان کے عملدرآمد کی تلوار لٹکتی محسوس ہو رہی ہو۔

ان حالات میں مسلم لیگ کے قائد وزیراعظم میاں نواز شریف عالمی ، ملکی اور سیاسی سطح پر تین بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ بھارت کی پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کرنے کی مہم ، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ، اورپاناما لیکس کے تناظر میں خراب ہوتی سیاسی ساکھ، جس پر لاہور ہائیکورٹ سے شریف خاندان کی ملکیت اتفاق اور چودھری شوگر ملز ساہیوال، حسیب وقاص ننکانہ صاحب، عبداللہ یوسف شوگر ملز سرگودھا اور عبداللہ شوگر ملز دیپالپور شامل ہیں۔کی رحیم یار خان منقتلی کے لئے اجازت نامہ کالعدم قرار دئیے جانے نے نئی بحث شروع کروا دی کہ حکمران خاندان جنوبی پنجاب میں کپاس کے تحفظ کے لئے شوگر ملوں پر پابندی کے فیصلے کی ذاتی مفاد میں دھجیاں اڑا رہا تھا۔

پاناما لیکس کے معاملہ پرعمران خان گذشتہ ہفتے وزیراعظم کو احتساب کے پیش کرنے یا استعفی دینے کے مطالبات کے ساتھ تیس اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت بند کرانے کی کال دے چکی ہے جس کے جواب میں حکومت اور اس کی جمہوریت کے تسلسل کے نام پر فرینڈلی کردار نبھانے والی پارلیمانی اپوزیشن نے معاملہ کو پارلیمنٹ میں ہی حل کرنے کا لائحہ عمل اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

قومی اسمبلی میں پاناما لیکس کے حوالے سے مسلم لیگ ن کا حکومتی بل قائمہ کمیٹی سے منظور ہو چکا ہے جبکہ سینٹ سے حکومت کی فرینڈلی اپوزیشن کا کردار رکھنے والی پارٹیاں اپنا بل زیر غور لا کر وزیراعظم کو احتساب کے عمل میں شامل کرانے کی سعی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں تاہم اگر سینٹ اور قومی اسمبلی سے الگ الگ قسم کے بل منظور بھی ہوتے ہیں تو مسلم لیگ ن کے پاس پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر اپنی اکثریت کے بل پر وزیراعظم کی جان چھڑانا کوئی مشکل نہیں ۔

وزیراعظم کے وکلا الیکشن کمیشن میں یہ دعوی کر چکے ہوں کہ مریم نواز اپنے والد میاں نواز شریف کی زیر کفالت نہیں۔ مریم نواز کے ڈی پینڈنٹ قرار دئیے جانے کے باعث وزیراعظم پاناما لیکس کے الزامات کی زد میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے پاناما لیکس پر بدلتے موقف یقینا معاملہ کو الجھا کر طول دینے کی حکمت عملی ہی وا کرتے ہیں تاہم عمران خان اسے ایف بی آر کے ریکارڈ میں ردو بدل کئے جانے سے تعبیر کرتے ہوئے دعوی رکھتے ہیں کہ ایف بی آر کی تصدیق شدہ دستاویز کے مطابق مریم نواز 2012 ء میں وزیراعظم کی زیر کفالت تھیں۔ سو اب پہلے مریم نواز شریف کے زیر کفالت ہونے کا معاملہ طے ہوگا ؟

بعین معاملہ ہی دہشتگردی کیخلاف نیشنل ایکشن پلان کا ہے کہ سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے شائع ہونے والی انگریزی اخبار کی متنازع سٹوری میں دہشتگرد گروپوں کی کفالت اور کفیل کا معاملہ اٹھا ہے۔ پاناما لیکس کی طرح دہشتگردی کیخلاف نیشنل ایکشن پلان بھی ریاست و سیاست میں فٹ بال سی حثیت اختیار کر چکا ہے کہ اہم مسائل کا منطقی حل دینے کے بجائے بوجوہ زیر التواء رکھنے کا رجحان ملکی قیادت کے رویوں میں نمایاں ہے۔

کہا جاتا ہے طاقت کا سرچشمہ عوام ہے اور اس پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعتیں جمہوریت کے لئے تو وزیراعظم کے ساتھ ہیں مگر عوام کے موڈ کو دیکھتے ہوئے کسی بھی وقت اپنی حکمت عمل میں تبدیلی خارج از امکان نہیں۔ تاہم اس کا فیصلہ عمران خان کی تیس اکتوبر کو اسلام آباد دھرنے کی کال کے لئے آنے والے دنوں میں عوام کو متحرک کرنے کی عمرانی مہم کریگی۔

سرحدوں پر خطرات ، اندرونی سلامتی کے چیلنجز اور عالمی سطح پر تنہائی کے اندیشوں میں سیاسی و عسکری قیادت کا اعلی سطحی اجلاس پر اجلاس اور اتفاق پر اتفاق کا اعلان ہو رہا ہے مگر سیاست و ریاست میں اتفاق کا تاثر عوامی سطح پر پذیرائی نہیں پا رہا۔ کیونکہ سیاست و ریاست میں تناءو کے تناظر میں میڈیا پر سازشی تھیوریوں اور سنی سنائی باتوں کی کھال اتارنے کی مشق اور میں ناں مانوں کی سیاسی گردانیں قومی منظر نامے پر بے یقینی کے بادل چھٹنے نہیں دے رہیں۔

متعلقہ ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دئیے لنک پر کلک کریں

ویڈیو لنک: احتساب کیلئے تیار یا استعفی ؟ وزیراعظم نے فیصلہ کر لیا