اقوام متحدہ کا آئندہ سیکرٹری جنرل “سوشلسٹ” لیڈر ہوگا

اسلام آباد پالیٹکس مانیٹر : اقوام متحدہ کا اگلا جنرل سیکریٹری نامز کردیا گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پرتگال کے سابق سوشلسٹ وزیراعظم آنٹونیو گوٹیرس اقوام متحدہ کے آئندہ سیکرٹری جنرل ہونگے ۔ سوشلسٹ لیڈر 67 سالہ آنٹونیو گوٹیرس نے جون 2005 سے دسمبر 2015 کے دوران ایک دہائی سے زائد عرصے تک اقوام متحدہ میں کمشنر برائے مہاجرین کے طور پر مہاجرین کے حقوق کے لیے انتھک لڑائی کی۔

آنٹونیو گوٹیرس نے کئی بار خبردار کیا کہ شام، عراق، افغانستان اور دیگر جنگ زدہ ممالک سے ہجرت کرنے والے لاکھوں مہاجرین، اگر ترکی اور اردن جیسے ممالک کی پناہ گزینوں کے حوالے سے مدد نہیں کی گئی تو وہ یورپ کا رخ کریں گے۔

آنٹونیو گوٹیرس کا اقوام متحدہ میں کمشنر برائے مہاجرین کا عہدہ چھوڑنے سے قبل گزشتہ سال دسمبر میں کہنا تھا کہ ’جب لوگ کہتے ہیں کہ وہ شامی مہاجرین کو خوش آمدید نہیں کہیں گے کیونکہ وہ مسلمان ہیں، اس کا مطلب وہ دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کر رہے ہیں اور ان اجازت دے رہے ہیں کہ وہ لوگوں کو بھرتی کرنے کے حوالے سے زیادہ موثر ثابت ہوں۔‘

پرتگال کے سابق صدر انیبال کاواکو سلوا نے رواں سال کے اوائل میں کہا تھا کہ آنٹونیو گوٹیرس نے پناہ گزین ایجنسی میں اپنی آواز چھوڑ آئے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ پوری دنیا ان کی بات کو سنتی ہے اور ان کا احترام کرتی ہے۔

30 اپریل 1949 کو لسبن میں پیدا ہونے والے آنٹونیو گوٹیرس نے 1974 کے ’کارنیشن انقلاب‘ کے بعد پرتگال کی سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ انقلاب کے نتیجے میں پرتگال میں تقریباً پانچ دہائیوں کے بعد آمریت کا خاتمہ ہوا تھا۔

آنٹونیو گوٹیرس انقلاب کے بعد 1976 میں پرتگال کے پہلے جمہوری انتخابات میں قانون ساز منتخب ہوئے اور جلد ہی بہترین خطیب کے طور پر ساکھ قائم کی۔ وہ پرتگالی کے علاوہ انگریزی، فرینچ اور ہسپانوی زبانوں کے بھی ماہر تھے۔

آنٹونیو گوٹیرس 1992 میں اس وقت کی اپوزیشن جماعت سوشلسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے، جس کے بعد ان کی بدولت پارٹی نے 1995 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور آنٹونیو گوٹیرس ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ ان کی پارٹی نے 1999 کے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔