مودی کے جنگی جنون کا سرپرست کون ؟

 

جمعہ کو رائیونڈ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے تاریخی جلسہ پلس کا نتیجہ چوبیس گھنٹو ں میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی طرف سے وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے لئے دائر ریفرنس کو الیکشن کمیشن روانگی کی صورت نکلا ۔
سپیکرقومی اسمبلی کا یہ تحرک بدھ کو مجوزہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل خود کو غیر جانبدارثابت کرنے کا اقدام ہی قرار پائے گاکیونکہ عمران خان نے جمعہ کو وزیراعظم کیخلاف دائر ریفرنس کو الیکشن کمیشن نہ بھجوانے پر سپیکر قومی اسمبلی کے اقدام کو پارلیمنٹ کا ادارہ غیر مؤثر بنانے کا اقدام قراردیتے ہوئے انہیں سپیکر تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔
سپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کیخلاف پی ٹی آئی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوا کر اپنے دامن پر سیاسی جانبدار ی کا داغ دھونے کی کوشش تو کی مگر تاخیر ہونے کے باعث یہ داغ مکمل دھل نہیں سکے گا بلکہ سیاسی تاریخ میں پی ٹی آئی کی سیاسی فتح کی صورت نمایاں ہی رہیگا۔ پی ٹی آئی کا وزیراعظم کی نااہلی کے لئے ریفرنس جہاں نواز حکومت کے لئے ایک چیلنج ہوگا وہاں نو نامزد الیکشن کمیشن کے لئے بھی آئندہ عام انتخابات سے قبل خود کو غیر جابندار ثابت کرنے کے لئے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔
بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو کنٹرول لائن پر پاکستانی علاقے میں بلااشتعال بھارتی فائرنگ ، مبینہ سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے اور جنگی جنون کا پراپیگنڈہ خطے میں امن کو خدشات سے دوچار کئے ہوئے ہے وہیں واشنگٹن میں امریکی میڈیا کا ایک بڑا حصہ اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بھارت کو پاکستان سے نمٹنے کے لئے فری ہینڈ دینے کی حامی دکھائی دیتی ہے ۔
برطانوی نوآبادیات کے خاتمے پر 1947ء میں جنوبی ایشیا ء کے نقشہ پر مسلم ریاست پاکستان اور ہندو ریاست بھارت کے نام سے وجود میں آئیں۔ سرد جنگ کے دوران امریکی اور عالمی طاقتوں نے مسلم ریاست پاکستان کو فرنٹ لائن سٹیٹ کے درجہ پر فائز کرکے روس کیخلاف افغانستان میں استعمال کیا اور اب امریکہ ایسا ہی درجہ بھارت کو دیکر چین کی اقتصادی ناکہ بندی کے لئے پاکستان میں استعمال کرنے کی پالیسی پر کاربند دکھائی دیتاہے۔
کنٹرول لائن پر بھارتی بلااشتعال فائرنگ اور سرجیکل اسٹرئیک کے دعوے سے قبل بدھ کو امریکی اخبارات وال سٹریٹ جرنل ، لاس اینجلس ٹائمز اور دی ٹائمز میں ایسے آرٹیکلز شامل تھے جن میں بھارت کی مودی حکومت کو پاکستان کیخلاف فوجی کارروائی کے لئے اکسایا گیا تھا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں بھارتی وزیر اعظم مودی کی پاکستان کے حوالے سے پالیسی کالم شامل کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ مودی پاکستان کے ساتھ تحمل کی پالیسی زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھ سکیں گے اور اگر پاکستان نے مودی کی تعاون کی پیشکش کو رد کیا تو پہلے سے اچھوت قوم کی صورت اختیار کر جائیگا ۔ ‘‘ وال اسٹریٹ جرنل نے خبردار کیا کہ پاکستان نے سرحد پار دراندازوں کو بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا تو بھارتی وزیراعظم کے پاس کسی سخت ایکشن لینے کا مضبوط جواز ہوگا ۔
بعین لاس اینجلس ٹائمز نے اپنی اشاعت میں شامل آرٹیکل میں سوال اٹھایا کہ بھارت کے اندر سے اب آوازیں اٹھ رہیں کہ آرٹیکل میں کہا گیا کہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر چیلنج درپیش ہیں اور امریکہ سے تعلقات بھی متاثر ہیں جبکہ بھارت ایک نمو پذیر معیشت اور دنیا کے لئے پرکشش ہے ۔بھارت کے پاس دنیا کی بڑی فوج ہے اسے استعمال کیوں نہیں کر رہا ؟
امریکی اخبار دی ٹائمز نے بھی سابق بھارت کے سابق انٹیلی جنس افسر وکرم سوڈو کے بیان کو نمایا ں شائع کیا جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت کو اپنی پالیسی سے لاشوں کے سوا کیا ملا ؟ ہم بھارتی کہتے آئے ہیں کہ جنگ کو آپش نہیں مگر اب ہمیں کہنا چاہیئے جنگ آپشن ہے چاہیے کتنا ہ یہ ی برا کیوں نہیں ۔ اس سے قبل گذشتہ منگل کو بھارتی وزیراعظم مودی نے نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں نہ صرف خود شمولیت سے انکار کردیا بلکہ سارک کے دیگرچھوٹے اور باجگزار ممالک افغانستان ، بھوٹان اورنیپال پر دھونس اور اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے سارک کانفرنس کا التواء کروانے کی سازش کی۔ جبکہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کے برعکس پاکستان کا پانی روکنے کا بھی اعلان کیاجس سے پاکستان میں ناصرف قحط کا خطرہ ہوگا بلکہ بجلی کا بحران بھی سنگین ہوگا۔ بھارت نے اعلانیہ طور پر پاکستان کیخلاف آبی جنگ مسلط کرنے کا عندیہ دیدیا۔
گذشتہ اتوار کو بھارتی وزیراعظم مودی نے اڑی حملہ کو پاک بھارت جنگ 65ء سے موازنہ کرتے ہوئے بھارت بھر میں لال بہادر شاستری کی طرز پرجنگی جنون کو بڑھاوا دیاجبکہ بھارتی ٹی وی چینلز سابق میجر جنرل جی ڈی بکشی کے پاکستان کے صوبہ پنجاب پر ایٹمی حملہ کرنے کے مطالبہ پر مبنی خبطی بیانات نشر کرتے رہے جبکہ امریکی میڈیا بھی اس جنگی خبط کو تسلسل کے ساتھ ابھار دیتا رہا جو ایشیا ء کی دو ایٹمی طاقتوں میں جنگی رجحانات کو بڑھاوا دینے کا باعث ہے۔ دوسری طرف امریکی حکومت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزی کی مذمت کرنے سے گریز کیا گیا تاہم امریکی انتظامیہ کے بیانات پر بھارتی پراپیگنڈہ کا اثر نمایا ں دکھائی دیا کہ امریکی حکام پاکستان سے بھارت میں حملے کرنے والے گروپوں کیخلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ دہراتے دکھائی دیئے۔
واشنگٹن ایک دہائی سے نئی دہلی کو بیجنگ کیخلا ف ایک عسکری تزیرواتی طاقت کے طورپر کھڑا کرنے کا لائحہ عمل اختیار کئے ہوئے ہے۔ رواں صدی کے اوائل 2005ء میں نئی دہلی اور واشنگٹن نے ایک دفاعی فریم ورک معاہدہ کیا اور پھر 2008ء میں واشنگٹن سے ایٹمی مذاکرات کرکے سویلین نیوکلئیر ٹیکنالوجی معاہدہ کے تحت ایٹمی پروگرام کو مزید بڑھانے اور جدید امریکی ہتھیار وں کے حصول کی سہولت دی۔ گذشتہ ماہ بھارت نے ایک دفاعی معاہدہ کے تحت ماریکہ کو اپنی دفاعی تنصیبات کو استعمال کرنے کی اجازت دیدی۔
تیزی سے بڑھتے ہوئے ان بھارت امریکہ تعلقات کا نشانہ خطے میں پاک چین سٹریٹجک تعلقات ہیں کیونکہ پاکستان کو چین اپنے’’ ون بیلٹ ۔ون روڈ‘‘ اور پاک چین اقتصادی راہدری منصوبوں میں کلیدی شراکت دار کی حثیت دے چکا ہے۔ چین نے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کا اعلان واشنگٹن کی طرف سے افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے انخلاء کے اعلان کے بعد 2013ء میں کیا تھا۔ بیجنگ کا’’ ون بیلٹ ۔ون روڈ‘‘ منصوبہ چین کو وسطی ایشیاء ،مشرق وسطی ، اور یورپ تک منسلک کریگا جس سے امریکہ کو یوریشیا خطے میں اپنی حاکمیت اور بالادستی خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔پاک چین اقتصادی راہدرای منصوبہ( سی پیک) چین کے شمال مغربی صوبے کو پاکستان کے جنوب مشرقی صوبے بلوچستان کی بندرگاہ گوادر سے منسلک اور تیل ، شاہرات اور ریلوے لائنز انفرسٹرکچرمنصوبوں پر مشتمل ہے۔ سی پیک منصوبے کو پنٹاگون کے بحیرہ ہند اور جنوبی چینی سمندر کی ناکہ بندی کے ذریعے چین کی معاشی ناکہ بندی کے خطرے کے تناظر میں اہم ہے۔
پاکستان نے فروری 2013ء میں گوادر بندرگاہ کا آپریشنل کنٹرول کا ٹھیکہ چین کو دیا تھا۔ واشنگٹن کی طرح نئی دہلی بھی ’’ ون بیلٹ ۔ون روڈ ‘‘ اور ’’ سی پیک ‘‘ کو ایشیا ء میں اپنی سٹریٹیجک بالادستی کے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ بھارت گلگت بلتستان اور کشمیر کو سی پیک کا حصہ بنائے جانے پر معترض ہے جبکہ گوادر کو چینی کی نیول بیس کی صورت خطرہ سمجھتا ہے امریکہ اور نئی دہلی ’’سی پیک‘‘ منصوبے کو رکاوٹوں سے دوچار کرنے کے لئے چین اور پاکستان میں لسانی اور نسلی تقسیم پھیلانے کے ایجنڈا پر گامزن ہیں۔ رواں برس اپریل میں امریکی حکام نے بھارت کے شہر دھرم شالہ میں تبت اور سنگیانگ کے علیحدگی پسند تنظیموں کی کانفرنس میں شرکت کی جو امریکی فنڈنگ سے ہی منعقد کی گئی تھی۔ جبکہ پاکستان تسلسل سے بھارت پر افغانستان میں قائم قونصل خانوں کے ذریعے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو مدد دے کر خلفشار پھیلانے کی سازش کے ثبوت فراہم کر چکا ہے حال ہی میں بھارتی فوجی افسر کلبھوش یادیو کی بلوچستان میں خلفشار پھیلانے کے ثبوت اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو فراہم کئے گئے۔ جبکہ بلوچ علیحدگی پسند براہمداغ بگتی کو بھی بھارت اپنی شہریت دینے کا معاملہ زیر غور لائے ہوئے ہے۔
گذشتہ کئی ماہ سے امریکی و مغربی میڈیا میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا پراپیگنڈہ بھی واشنگٹن اور نئی دہلی کی اسی سازش کا حصہ ہے جبکہ مودی حکومت بلوچ علیحدگی پسندوں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے بھارت کی سرزمین فراہم کر رہی ہے۔ واشنگٹن اور نئی دہلی اپنے مفادات کے لئے عالمی برادری میں پاکستان کو دہشتگرد ریاست قراردلوانے کاپراپیگنڈہ جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ امریکہ کے دو ری پبلکن اراکین کانگریس نے پاکستان کو دہشتگرد ملک قرار دینے کیلئے ایک بل بھی کانگریس میں پیش کیا ہے گو کہ اس بل کی منظوری خارج از امکان قرار دی جا رہی ہے۔ تاہم امریکہ اور بھارت عالمی برادری میں پاکستان کو جس تنہائی کا شکار کرنے کی سازش کر رہے ہیں وہ کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی کہ امریکہ کے مقابل عالمی طاقت روس خطے میں بدلتے ہوئی صورتحال میں پاکستان کے قریب ہو رہا ہے جبکہ خطے کے دیگر کئی ممالک بھی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شمولیت کے خواہاں ہیں ۔