مودی بھبھکیاں،پاناما لیکس،رائیونڈ مارچ اورمتحدہ کا مستقبل

ملکی سیاسی منظر نامے کو نریندرمودی کی پھیلائی کشیدگی ، پاناما لیکس ،رائیونڈ مارچ اورمتحدہ قومی موومنٹ کا مستقبل کے موضوعات اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں ۔

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کا پاک بھارت تناظر کشمیر کا معاملہ رہا۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کا اپنے حق کے لئے نئے تحرک  کو بھارت کی سرکار نے ظالمانہ انداز سے دبانے کی کوشش کی تو جہاں اقوام عالم میں تشویش و مذمت ظاہر ہونا فطری امر رہا وہیں پاکستان جو مسئلہ کشمیر کا براہ راست فریق ہے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی سفارتی و اخلاقی حمایت کاداعی ، مودی سرکارکی بربریت پر کیسے خاموش رہ سکتا تھاسو پاکستان کی سیاست وریاست کے رہنماووں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس معاملہ کو اٹھانے کا فیصلہ کیا تو بھارتی انتہاپسند بی جے پی حکومت کے دہشت پسندوزیراعظم نے سرجیکل سٹرائیک سے پانی کی بندش اور جنگ تک کی دھمکیوں ، پاکستان پر دہشتگردی پھیلانے کے روایتی الزامات لگا کر اقوام عالم کے فورم پر اصل موضوع سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی مگر پاکستان کی سیاست و ریاستی اداروں کی جوابی حکمت عملی کامیاب رہی – وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی بھارت کے چھپ کر وار کرنے کو خارج از امکان قرار نہیں دیاجبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پاکستان کی سیاسی قیادت نے بھارتی سازشوں کیخلاف متحد ہونے کا پیغام دیاہے۔

اقوام متحدہ اورخطے میں اپنی پالیسیوں کی ناکامی پر اب نریندر مودی اپنے تھوکے الفاظ چاٹنے پر مجبورہیں اور اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لئے بھارتی عوام کو اپنے جھوٹے دعوؤں سے طفل تسلیاں دے رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کو اقوام عالم میں تنہا کر دیا ہے ۔حالانکہ مقبوضہ کشمیر میں عوام کی تحریک کو دبا نہ پانے پر زچ نریندر مودی کواپنی پاکستان دشمنی پر مبنی حالیہ دھمکیوں اور خطے میں کشیدگی پھیلانے کی پالیسی کی ناکامیوں کے اندرون بھارت سیاسی اثرات سے نکلنے کا نیا چیلنج لاحق ہو چکا ہے ۔نریندر مودی اپنی شرمندگی چھپانے کے لئے تسلسل سے پاکستان پرالزامات دھرنے اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔تاہم آرمی چیف راحیل شریف نے جرمنی میں واشگاف الفاظ میں دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ خطے میں کشیدگی پھیلانے کا ذمہ دار بھارت ہے اور کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے پاکستان تیار ہے۔

جھاگ کی طر ح بیٹھتی نریندر مودی گیڈر بھبھکیوں کے ساتھ ہی پاناما لیکس کا معاملہ سیاسی منظر نامے پر دوبارہ چھا رہاہے ۔ تحریک انصاف کی چیئرمین عمران خان کی پانامالیکس پر اپنے واحد کمٹڈ اتحادی عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید کے ہمراہ جاری تحریک کے اثرات حکومت کے لئے بڑا امتحان بن کر ابھر رہے ہیں جبکہ معاملہ رائیونڈ مارچ پر ختم نہیں ہوگا عمران خان ایکبار پھر پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے احتساب میلہ لگانے کا پروگرام بنائے بیٹھے ہیں۔ سینیٹ میں پانامالیکس انکوائری کا بل بحث کے لئے منظور ہو چکاہے تاہم اس بل کا نتیجہ پاناما لیکس پر بنی پارلیمانی کمیٹی سے مختلف کیسے ہو گا یہ آنے والے دنوں میں اس بل پر قائمہ کمیٹیوں میں ہونے والی اعصابی جنگ فیصلہ کریگی۔ توقع ہے کہ عمران خان انتخابی دھاندلی کیلئے جوڈیشل کمیشن بنوانے کے لیے پارلیمنٹ پر دباؤ میں لانے کا تیر بہ ہدف نسخہ بروئے کار لائیں گے۔تاہم سپریم کورٹ نے بھی پاناما لیکس پر دائر درخواستوں کی سماعت کیلئے منظوری دیدی ہے۔ شنید ہے کہ جلد ہی سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ ان درخواستوں کی سماعت شروع کر دے گا اور عوام کی نظریں پارلیمنٹ سے زیادہ عدلیہ پر ہونگی ۔ دوسری طرف تحریک انصاف تسلسل کے ساتھ پانامالیکس کے حوالے سے عوامی دباؤ بڑھانے پر زور و شور سے کام جاری رکھے ہوئے ہے ،

تحریک انصاف کی کامیابیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ اب ملک کی دوسری بڑی جماعت ہونے کی دعویدار پاکستان پیپلزپارٹی بھی پاناما لیکس تحریک میں عمران خان کے نقش قدم ڈھونڈ رہی ہے کہ مولا بخش چانڈیو کہنے پر مجبور ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری پانامالیکس پر عمران خان کے ساتھ ہیں مگر ساتھ ہی عمران کی حکومت کیخلاف تحریک میں ہمرکابی کے لئے بلاول کو برابر کی سیاسی حثیت ملنے کے طلبگار ہیں۔ مولابخش چانڈیو کا بیان یقیناًپیپلزپارٹی میں اس امر کا ادراک واضح کرتا ہے کہ تحریک انصاف واحد اپوزیشن جماعت کی صورت میں عوامی مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور حالیہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے ووٹ بنک میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو آئندہ عام انتخابات کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔ یقیناًپیپلزپارٹی پارلیمنٹ میں جیسی تیسی اپوزیشن سے اپنی ساکھ کو بہتر تو کجا مزید خراب کرتی آئی ہے اب آئندہ انتخابات سے قبل عوام میں اپنا تاثر بہتر بنانے کے لئے ’’ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ‘‘ کے مصداق عمران خان کی پاناما لیکس تحریک میں اپنا پاؤں رکھ کر عوام میں کھوئی ساکھ بنانے کی خواہش تو رکھتی ہے مگر پیپلزپارٹی کی جمہوریت بچانے کے نام پر مسلم لیگ ن حکومت کو حمایت اور پیپلزپارٹی کی قیادت بلاول کے پاس ہونے کے دعوے کی بار بار عملی تردید سے جیالوں کو پارٹی میں متحرک کرنے میں بھی کامیاب دکھائی نہیں دے رہی ۔

پیپلزپارٹی کے تنظیم سازی کے مرحلہ میں بھی مقامی سطح پرروایتی رہنماووں کی نامزدگیوں سے پارٹی کے پرانے ورکروں کی بلاول سے جڑی امیدیں ٹوٹی ہیں۔ تاہم بلاول بھٹو زرداری نے گذشتہ ہفتے کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے زخمی جسم پر پاؤں رکھ کر کراچی پر پیپلزپارٹی کے راج کا عندیہ دیتے دکھائی دئیے بعین ہی پنجاب میں بھی جلسے اور ریلیوں کا عندیہ دیا جا رہا تاہم گذشتہ ہفتوں میں پیپلزپارٹی کے ورکرز کنونشنز میں جو جیالوں کی مقامی قیادتوں کیخلاف دھماچوکڑی دکھائی دی اس نے پنجاب میں پیپلزپارٹی کے رہنماووں کی کارکنوں میں ساکھ کا پردہ چاک کردیا یقیناًکارکنوں کا تقاضہ پارٹی چیئرمین تک اپنی آواز پہنچانے کا ہے جو کہ پارٹی رہنما اپنے پول کھلنے کے خوف سے ہونے نہیں دے رہے سو بلاول کی پنجاب میں آمد پر پارٹی چیئرمین تک رسائی کے لئے جیالوں اور رہنماووں میں جنگ و جدل نمایاں رہنے کا امکان ہوگا۔

الطاف حسین کو مائنس کئے جانے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ پاکستا ن کو الیکشن کمیشن نے ایک اور موقع دیدیا ہے کہ وہ کارکنوں کے ذریعے اپنی نئی قیادت کا انتخاب کر سکے تاہم الیکشن کمیشن نے یہ احکامات صرف متحدہ کے لئے جاری نہیں کئے بلکہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے لئے بھی ہیں جہاں پارٹی کے اندر براہ راست کارکنوں کے ووٹ کے ذریعے انٹرا پارٹی ڈیموکریسی رائج کرنے کا رجحان ہی نہیں رہا۔ متحدہ قومی موومنٹ بائیس اگست کے بعد سے بحران کا شکار ہے۔ تاحال متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی پارلیمانی قیادت تنظیمی سیکٹر انچارجوں کے ساتھ اپنی قوت کا اظہار نہیں کرپائی کہ لندن ایم کیو ایم نے نئی پارٹی کی تشکیل کا عندیہ دیدیا۔ یہ الگ بات کہ پی ایس 127کے ضمنی انتخاب میں ایم کیو ایم پاکستان کے امیدوار کو ہزاروں ووٹ تو ملے تھے تاہم اب تک یہ طے نہیں ہو سکا ہے فاروق ستار کی ایم کیو ایم پاکستان نے الطاف حسین سے لاتعلقی کے باوجود مکمل قطع تعلق کیا یا نہیں۔

ایم کیو ایم سے الگ ہو کر پاک سرزمین پارٹی بنانے والے قائدین یقیناًایم کیو ایم پاکستان سے تعاون کا عندیہ دے رہے ہیں کہ اگر الطاف حسین سے مکمل قطع تعلق کر لیں تو ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کے لئے ملکر کام کرنے کو تیار ہیں ۔ قبل ازیں ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنوں کی بڑی تعداد نے اچانک منظر عام پر آکر پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا یقیناًمصطفی کمال اس پوزیشن میں ہونگے کہ وہ لاپتہ کارکنوں کی باز یابی کے لئے کچھ کر سکیں تاہم شرائط و ضوابط طے کرنے کی آفر بے معنی محسوس تو نہیں ہوتی ۔ ہو سکتا ہے مائنس الطاف سیاست کے تناظر میں فاروق ستار اور مصطفی کمال میں کوئی بڑا بریک تھرو ہو جائے کہ اردو بولنے والوں کا ووٹ بینک متحد رکھنے میں ہی انکی سیاسی بقاء قرارپاتی ہے۔