کوئٹہ دہشتگردی: محمود اچکزئی نے کیاسوال اٹھا دئیے ؟

کوئٹہ دہشتگردی واقعہ پر منگل کو ملک بھر میں سوگ طاری رہا ، بلوچستان میں قومی پرچم سرنگوں ہے ، وکلاء صحافی اور سول سوسائٹی کی دہشتگردی کیخلاف احتجاجی ریلیاں نکالی جا رہی تھیں تو قومی اسمبلی کے اجلاس میں جہاں دہشتگردی واقعہ کے خلاف مذمتی قرارداد میں اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے خاندان سے تعزیت اور بلوچستان کے عوام وکلا اور میڈیا کے ارکان سے یک جہتی کا اظہارکیا گیا جس نے س سانحے میں بھاری نقصان اٹھایا ہے اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ ایسے واقعات ہمارے عزائم کو متزلزل نہیں کر سکتے،وہیں اراکین قومی اسمبلی کوئٹہ دہشتگردی واقعہ پر بحث کے دوران ملک میں جنگی حالات اوربلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ ، کل جماعتی کانفرنس اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلاکر دہشتگردی جیسے خونی مسلہ کا حل نکالنے کی تجاویز پیش کرتے رہے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کی عدم شرکت پر بھی اراکین نے نتقید کی۔ جبکہ محمود اچکزئی نے کوئٹہ دہشتگردی کے بعد وزیراعظم اور آرمی چیف کے الگ الگ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کے دوروں کو سوال اٹھاتے ہوئے دہشتگردی واقعہ کو ایجنسیوں کی ناکامی قرار دیا۔ جماعت اسلامی کے شیر اکبر خان نے کوئٹہ سانحہ پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کا جبکہ جمیعت علمائے اسلام (ف )کی نعیمہ کشور نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہکیا توجے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا امیر زمان نے کوئٹہ دہشتگردی واقعہ کے بعد بلوچستان میں گورنر راج کیوں نہ لگائے جانے اور ملک میں کرائے کے قاتل اتنی آسانی سے دستیاب ہونے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگرد واقعہ کو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت کا شاخسانہ قراردیا۔پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر نوید قمر نے ایوان میں وزیر داخلہ کی عدم موجودگی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ وزیرداخلہ کو اس واقعہ کے حقائق بارے آج ایوان کو آگاہ کرنا چاہیئے تھا۔

کو ئٹہ دہشتگردی واقعہ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالستار بچانی نے کہا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار کل تمام دن بلیو ایریا گھومتے رہے ہیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہونے کی زحمت بھی وزیر داخلہ نے نہیں کی۔جب ایسے وزیر داخلہ ہوں تو پھر دہشتگردی کو کیسے روکا جائے ؟ عبدالستار بچانی نے کہا کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ کوئٹہ دہشتگردی سی پیک پر حملہ ہے۔معلوم کیا جائے یہ کس کی ناکامی ہے۔معلوم نہیں ملک پر حکومت کس کی ہے۔معلوم نہیں وزیر داخلہ کہاں ہے۔سندھ میں رینجرز معاملے پر بیانات دینے ہوں تو چوہدری نثار چھ چھ گھنٹے میڈیا پر سوار ہو جاتے ہیں۔ایک دن مرنا تو ہے ہی وزیراعظم مرد بن کر جئیں۔

رکن قومی اسمبلی محمود اچکزئی نے کہا کہ آئندہ پارلیمنٹ میں فاتحہ خوانی نہیں کروں گا،کیا ایوان صرف دعاؤ ں کے لئے ہے۔ را پر الزام الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا،کوئٹہ واقعہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے۔ملک میں حالت جنگ ڈیکلئر کی جائے،ہم کرائے کے قاتل نہیں ہیں، فیصلہ کیا جائے کہ ملک میں کسی کی پراکسی وار نہیں لڑی جائے گیہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کسی کی پراکسی وار نہیںؒ ؒ لڑیں گے دہشت گردی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی لازمی ہے فوج عدلیہ اور حکومت کو دہشت گردی کے خلاف تجدید عہد کرنا ہوگا سانحہ کوئتہ انٹیلیجنس اداروں کی ناکامی ہے وزیر اعظم پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کیوں نہیں بلاتے تاکہ حارجہ اور دا داخلہ پالیسی پر بات ہو سکے عوام کی حمایت کے بغیر دہشت گردی کی جنگ جیتا ناممکن ہے ۔وزیر اعظم سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان کو اس واقعہ کی انکوائری کا ٹاسک دیں، محمود اچکزئی نے کہا کہ نتائج نہ دینے پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے متعلقہ افسران کو برطرف کر دیں ۔ ہماری بیوروکریسی روز نئی تھیوریاں پیش کرتی ہے. یہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی ہے. ایجنسیاں گدلے پانی سے سوئی ڈھونڈ سکتی ہیں. تخریب کار ہماری ایجنسیوں کی پے رول پہ ہیں. کوئٹہ حملہ پاکستان پر حملہ ہے. پاکستان میں کسی ملک کی پراکسی وار نہیں لڑیں گے. کل ہمارے شریف علیحدہ علیحدہ کوئٹہ پہنچے ہم دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں. ہمارے سارے سماج دشمن ایجنسیوں کے پے رول پہ ہیں۔ہماری ایجنسیاں دہشت گردوں کی تلاش میں کیوں ناکام رہی ہیں۔

اکرم خان درانی نے کہا کہ کل وزیراعظم اور آرمی چیف دونوں نے کہا کہ کوئٹہ حملہ اصل میں سی پیک پر حملہ ہے۔کئی دفعہ وزیراعظم کو فرنڈ سیٹ پر بٹھا کر آرمی چیف نے ڈرائیونگ کی۔آرمی چیف اور وزیراعظم میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔گزشتہ رات نجی ٹی وی کے ایک اینکر نے مولانا فضل الرحمن کو غدار قرار دیا۔عوام کے منتخب نمائندے پر خطرناک الزام کا نوٹس لیا جائے۔

قومی اسمبلی اجلاس کے سوگوار ماحول میں ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی فوزیہ حمید کا تاخیر سے ایوان میں آمد پر سپیکر قومی اسمبلی سے مکالمہ دبیز سوگواریت کو کچھ لمحے کم کرنے کا باعث رہا ۔ رکن قومی اسمبلی فوزیہ حمید نے ایوان میں تاخیر سے آنے کی وجہ انکے پارلیمنٹ لاج میں چوہوں کے گھسنے کو قرار دیا۔ جس پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ازراہ تفنن سوال کیا کہ کیا چوہوں نے آپ کا راستہ روک لیا تھا؟ جس پر خاتون رکن اسمبلی نے کہا کہ چوہے چیزیں بکھیر دیتے ہیں اور صبح اٹھ کر چیزیں سمیٹنے میں بہت وقت لگ جاتا ہے۔ جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے ایم کیو ایم کی رکن کو واقعہ بارے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کو آگاہ کرنے کے لئے کہا۔

اس سیاسی ڈائری سے متعلقہ ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دئیے لنک پر کلک کریں :

کوئٹہ دہشتگردی: محمود اچکزئی نے کیا سوال اٹھا دئیے ؟