احستاب و قصاص تحریکیں اور ساون کے اندھے

شہراقتدار کی غلام گردشوں میں جہاں مقتدر حلقوں اور حکمرانوں میں دہشتگردی کیخلاف آپریشن میں فری ہینڈ اور پاک چین راہداری منصوبے کی ملکیت پربڑھتی دوریوں بارے سرگوشیوں گونج رہی ہیں وہیں احتساب و قصاص تحریکوں کے ہی نہیں حکمران جماعت کے اندر سے بھی حقیقت گوئی کے گہرے بادل اٹھنے لگے ہیں۔

ایک طرف مسلم لیگ ن حکومت کی بیڈ گورننس کی ناقد اپوزیشن پاناما لیکس کے بعد وزیر اعظم نواز شریف اور انکے اہل خانہ کو ٹارگٹ کئے ہے ، ماڈل ٹاءون واقعہ کا انصاف طلب کرنے کی تحریک زور پکڑ رہی ہے تو ایسے میں وزیراعظم کی عوامی مسائل پرعدم توجہی اوربادشاہانہ رویہ سے مایوس لیگی اراکین اسمبلی بھی گرجنے برسنے لگے۔

دہشتگردی کے واقعات کا ایک تسلسل ہے کہ رکتا دکھائی نہیں دے رہا اور اس کی روک تھام کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں بیانات کی حد تک سفر تیز اور اقدامات میں بوجہ سست قدمی کا لائحہ عمل اختیار کئے ہوئے ہیں۔

پنجاب ہو یا کراچی یا پھر اندرون سندھ میں دہشتگردوں ، سہولت کاروں اور مالی معاونین کا نیٹ ورک توڑنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں رینجرز کو فری ہینڈ دینے میں متذبذب ہیں اور نتیجتا آئے روز دہشتگرد لاشیں گراتے اور حکمران ان لاشوں کو سوگ اور تعزیت و افسوس کے بیانات میں دفن کرتے جا رہے ہیں۔

شہر اقتدار کی غلام گردشوں میں اپوزیشن کے حملوں کے لئے حکومتی جوابی لائحہ عمل اور مقتدر حلقوں کی اپنے معاملات تک تحریکوں کے دباءو کو استعمال کرنے کی سوچ بھی زیر بحث ہے۔

کہتے ہیں ناں ساون کے اندھے کو سب ہرا ہرا ہی نظر آتا ہے۔ اس سیاسی ساون کی احتجاجی بارشوں میں بے مہار بڑھتی بے یقینی کی گھاس میں کوئی اپنے اقتدار کی ، کوئی اختیار کی تو کوئی جان کی امان کی ہریالی دیکھ رہا مگر اس سیاسی سبز باغ میں آئی بحث و مباحثے کی برسات میں دہشتگردی ،استحصال ، ظلم و جبر کے شکار عوام کو کہیں انصاف و اماں ملتا دکھائی نہیں دے رہا۔

اس سیاسی تجزیہ سے متعلقہ ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دئیے لنک پر کلک کریں :

احستاب و قصاص تحریکیں اور ساون کے اندھے