ڈرون کا کھیل :اوباما جنگی “پلے بک” کا راز کھل گیا

اسلام آباد : ( خصوصی تجزیاتی رپورٹ- معظم رضا تبسم)

وائٹ ہاؤس نے صدر اوباما کی دنیا بھر میں دہشتگردی کے نام پر جاری ڈرون جنگی کھیل کی خفیہ “پلے بک” جاری کردی۔ “ڈرون حملوں سے پاکستان ، افغانستان ،صومالیہ ، یمن اور لیبیا میں امریکی جنگی کھیل” کی یہ کئی برسوں سے خفیہ اوباما پالیسی کو امریکی عدالت کے حکم پر جاری کیا گیاہے۔ اوباما کی ” پلے بک ” میں اس پالیسی کا مقصد دہشت گردوں سے نبرد آزما ہونا بتایاگیا ہے، یہ پالیسی 2013 میں طے کی گئی تھی اور صغیہ راز رہی تاہم اب بھی اوباما انتظامیہ نے اس پالیسی کی دستاویز کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کیا بلکہ بہت سے معاملات کو قومی سلامتی کا جواز بنا کر خفیہ ہی رکھا ہے۔ ہفتے کے روز امریکی شہری آزادیوں سے متعلق تنظیم، ’امریکن سول لبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) نےوائٹ ہاءوس کی جاری کردہ پالیسی دستاویز کو اپنی ویب سائٹ پر آویزاں کر دیا ہے۔

اٹھارہ صفحات پر مشتمل اِس دستاویز میں ڈرون کے معاملے پر ’’صدارتی پالیسی ہدایت نامے‘‘ کی فہرست دی گئی ہے، جس میں بغیر پائلٹ کے طیارے کے استعمال سے شہری ہلاکتوں کو کم سے کم کرنے سے متعلق مناسب تحفظات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اس میں امریکی فوج سے کہا گیا ہے کہ وہ مہلک ہتھیار تبھی استعمال کریں جب یہ بات ’’بالکل یقینی‘‘ ہو کہ نشانہ خطا نہیں ہوگا، کہ ہدف دہشت گرد ’رینج‘ میں ہے اور یہ کہ کوئی غیر لڑاکا فرد ہلاک و زخمی نہیں ہوگا۔

دستاویزکے مطابق اس پالیسی کے تحت وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے عملے کو کانگریس کی نظرثانی سے مستثنیٰ قراراور قابل ذکر کردار دیا گیا ہے کہ وہ مخصوص دہشت گردوں کی ہلاکت کے لیے نشانہ بنانے سے متعلق ضابطوں پر عمل کرا سکیں۔

مشتبہ دہشت گرد کو ہلاک کرنے یا پکڑنے کی انتظامی کارروائی، جو عام طور پر ’سی آئی اے‘ یا امریکی فوج کرتی ہے، اُس کی قومی سلامتی کونسل نظر ثانی کرتی ہے۔ ہفتے کے روز جاری کیے گئے دستاویزات میں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ حملے کے کسی پروگرام پر غور کرنے کے لیے کابینہ کے دیگر محکموں اور اداروں کے نمائندے بھی اجلاس بلا سکتے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ صرف صدر کی قومی سلامتی کونسل کرے گی۔

چھ ماہ قبل ایک وفاقی عدالت نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ پالیسی دستاویز کا انکشاف کیا جائے، جسے امریکی حکام کی اعلیٰ سطح پر غیر رسمی طور پر ڈرون کے استعمال کا ’پلے بُک‘ کہا جاتا ہے۔ یہ عدالتی حکم ’اے سی ایل یو‘ کی جانب سے پیش کردہ ’فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ‘ کے فیصلے میں درج ہے جسے اس قانونی مقدمے کے جواب میں پیش کیا گیا تھا۔

ہفتے کے روز جاری ہونے والی دستاویز کی ہیئت کو ’’تیار کرنے‘‘ یا ترتیب دینے کا عمل قرار دیا گیا ہے، جس میں اُن خصوصی تفاصیل کو جاری نہیں کیا گیا، جن کا جاری کیا جانا امریکی قومی سلامتی کے مفاد میں نہ ہوگا۔

اوباما انتظامیہ نے 2013ء میں ڈرون کے استعمال کی اپنی پالیسی کے حقائق نامے کا اختصار جاری کیا ہے۔ لیکن، ہفتے کے روز جاری کی گئی تفصیل میں وہ قانون و ضوابط پیش کیے گئے ہیں جن پر حکومت عمل درآمد کرتی ہے، اُس وقت جب نشانہ بنا کر ہلاک کرنے سے متعلق احکامات دیے جاتے ہیں، اور غیر ملکی سرزمین پر مشتبہ دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے کہا جاتا ہے۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان، نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ ’’صدر نے اِس بات کی نشاندہی کی ہے کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں،ان پر عمل درآمد اور اُن کے نتائج کیا ہیں‘‘۔

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’’ہمارے انسداد دہشت گردی کے اقدامات مؤثر اور قانونی ہیں اور اُن کے جائز ہونے کا ثبوت اِن اقدام کے بارے میں عوام کو زیادہ اطلاعات دینے سے اور ساتھ ہی اِن پر عمل درآمد سے متعلق واضح معیار ترتیب دینے سے ہوگا‘‘۔

انتظامیہ نے کہا ہے کہ ماضی میں پُرتشدد انتہا پسند گروپوں سے نمٹنے کے سلسلے میں پاکستان، افغانستان اور یمن جیسے ملکوں میں ضروری ہتھیار کے طور پر بغیر پائلٹ کے طیارے استعمال ہوئے۔ کچھ ڈرون حملوں میں شہری ہلاک ہوئے، جو دراصل اہداف پر نہیں تھے، جو مقامی سطح پر برہمی کا باعث بنے۔

ایک ماہ قبل، وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ ڈرون حملے اور دیگر فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں، جن کا اوما انتظامیہ نے جنوری 2009ء سے آغاز کیا، 64 اور 116 کے درمیان شہری ہلاک ہوئے۔

امریکی اہل کاروں نے کہا ہے کہ 2015ء کے آخر تک امریکی افواج نے 473 فضائی کارروائیاں کیں، جن میں زیادہ تر ڈرون استعمال کیا گیا، جس دوران 2600 کے قریب دہشت گرد ’’لڑاکے‘‘ ہلاک کیے گئے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کا شمار گھٹا کر بیان کیا گیا ہے، چونکہ انتظامیہ کی رپورٹ میں افغانستان، شام یا عراق میں ڈرون حملوں کو شامل نہیں کیا گیا۔

سنہ 2013 میں، امریکی سینیٹر، لِنڈسی گراہم نے اپنی جمع کردہ اطلاعات کے مطابق، بتایا تھا کہ امریکی ڈرون حملوں میں 4700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس ادارے ڈی این آئی کے اعدادو شمار کو انوسٹی گیٹو جنرنلسٹس بیورو نے اپنے اعدادو شمار سے رد کر دیا ہے ۔ انوسٹی گیٹو جنرنلسٹس بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق امریکی ڈرون حملوں میں 1138بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں جو امریکی انٹیلی جنس ادارے کی بتائی تعداد سے 10گنا زیادہ ہیں۔ جبکہ 2014 ء میں انسانی حقوق گروپ نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا کہ پاکستان میں 41 شہریوں کی ہلاکت قابل مذمت ہے وائٹ ہاؤس امریکی قبضہ کی پالیسی کے مخالفین کو دہشتگرد قرار دے کر مار رہا ہے۔ اس گروپ کی رپورٹ کے مطابق امریکی ڈرون حملوں میں 1147بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔

وائٹ ہاؤس کے جاری ڈرون حملوں بارے اعدادو شمار پر ہیومن رائٹس واچ کی محقق لیٹاٹیلر نے درعمل دیتے ہوئے قرار دیا کہ یمن میں امریکی ڈرون حملوں میں 2009ء سے 2013ء تک 57بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں-

ایک تھنک ٹینک سٹیمسن سینٹر کے مطابق ،اس وقت افغانستان ، جبوتی ، ایتھوپیا ، کویت ، نائجر ، فلپائنز، قطر ، سعودی عرب ، ترکی ، اور یواے ای سمیت ایک درجن سے زائد مملک میں امریکی ڈرون اڈے موجود ہیں ۔ 2012ء کے بعد امریکہ نے ڈرون حملوں کا اپنے مقاصد کے لئے استعمال بڑھا دیا تھا ،جس کے بعد پاکستان ، افغانستان ، یمن اور انڈونیشیا میں ڈرون حملوں میں متعدد سویلین ہلاکتیں ہوئیں۔ صرف پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں سینکڑوں بے گناہ پاکستانی شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں ۔پاکستان نے امریکہ سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پاک فوج بار بار یہ قرار دے چکی ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کے دہشتگردی کیخلاف جاری آپریشن کو متاثر کرنے کا باعث بننے ہیں۔

اب جبکہ امریکی صدر اوباما کا اقتدا رختم ہونے میں صرف چھ ماہ باقی ہے وہ اپنی خونریز پالیسی کو زیادہ تیزی سے جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں جبکہ ڈیموکریٹ پارٹی کی آئندہ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے بھی اوباما کو فتح یاب ہونے کے بعد اپنا وزیر بنانے کا عندیہ دیدیا ہے ۔ امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اوباما اپنے وائٹ ہائس کے اوول آفس کو ڈرون حملوں کے ذریعے دنیا بھر میں ٹارگٹ کلنگ کے لئے ہیڈکوارٹر میں تبدیل کررہے ہیں ۔ اوباما آئندہ چھ ماہ میں دنیا بھر میں امریکہ کی جانب سے قرار دیئے دہشتگردوں اور دہشتگرد قراردی گئی تنظیموں کیخلاف ڈرون حملوں میں 50فیصد اضافہ کرنے کا خفیہ ایجنڈا رکھتے ہیں تاکہ ناصر ف آئندہ امریکی صدارتی انتخابات میں اپنی ڈیموکریٹک پارٹی کے مفادات کو تحفظ دے سکیں بلکہ ڈیموکریٹک کی جیت کی صورت میں آئندہ امریکی حکومت میں اپنے لئے کوئی وزارتی عہدہ بھی محفوظ بنا سکیں ۔ واضح رہے کہ صدر ابامہ نےاپنی پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی حمایت میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لئے کردار کو متحرک قرار دیا ہے۔

اس امریکی پالیسی سے متعلقہ مزید ویڈیو نیچے دئیے لنک  کلک کرکے دیکھیں:

ڈرون کا کھیل :اوباما جنگی “پلے بک”

متعلقہ مزید ویڈیو نیچے دئیے لنک  کلک کرکے دیکھیں:

وسیع ٹارگٹ کلنگ کا امریکی منصوبہ بے نقاب ،پاکستان مطالبے پر ڈٹ گیا