سندھو دیش لبریشن آرمی -پاک چین راہداری کے لئے خطرہ

لاڑکانہ میں رینجرز پر ہونے والے حملے میں سندھو دیش لبریشن آرمی کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ سندھی قوم پرستوں کا یہ گروپ پاک چین راہداری منصوبہ کا مخالف ہے ۔
پاکستان کے پارلیمانی نظام میں سیاسی طور پر سندھ کی نمائندگی اندرون اور دیہی سندھ پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ فنکشنل ، اور شہری علاقوں میں متحدہ قومی موومنٹ ،مسلم لیگ ن ، پی ٹی آئی ، جے یو آئی ف اور چھوٹی سیاسی جماعتیں کرتیں ہیں۔ پیپلزپارٹی کے نو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سیاست میں آتے ہی’’ ناں ڈیسوں ، ناں ڈیسوں ، سندھ ناں ڈیسوں ‘‘ کا نعرہ مستانہ بلند کیا تھا۔
اندرون سندھ کے علاقوں میں ایسے ہی نعرہ کے پیروکارسندھی قوم پرست نظریہ کے حامیوں کی بھی ایک خاصی بڑی تعداد پائی جاتی ہے جو جے ایم سید کے نظریاتی پیروکار ہیں۔ جے ایم سید کی وفات کے بعد انکی پارٹی جئے سندھ تحریک لگ بھگ گیارہ دھڑوں میں تقسیم ہوگئی تھی ۔ جن میں جئے سندھ قومی محاذمحمد شفیع برفات کی قیادت میں قائم ہوا تھا۔
سندھو دیش لیبریشن آرمی جئے سندھ متحدہ محاذ کی زیر زمین تنظیم ہے اس تنظیم نے گذشتہ برسوں میں سندھ میں ریلوے لائنوں اور نیشنل بنک آ ف پاکستان کی شاخوں کو متعدد حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ سندھو دیش لیبریشن آرمی تین سال قبل بھرپور دہشتگردی سرگرمیوں سے سندھ میں ابھری ۔ فروری 2012 میں سندھو دیش لبریشن آرمی نے سندھ کے8 اضلاع میں ریلوے ٹریکس پر 24 دھماکے کئے جس سے پٹریوں کو جزوی نقصان پہنچا اور ٹرینوں کی آمد و رفت 5 گھنٹے معطل رہی۔ پولیس کے مطابق دھماکے بن قاسم، جامشورو، حیدرآباد، بے نظیر آباد، سانگھڑ، نوشہرو فیروز، خیر پور اور گھوٹکی کے علاقوں میں ہوئے، جائے وقوعہ سے سندھو دیش لبریشن آرمی نامی تنظیم کے پمفلٹ برآمد ہوئے جس میں ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی گئی۔مئی 2012ء میں سندھو دیش لیبریشن آرمی نے ایکبار پھر سندھ کے مختلف شہروں میں نیشنل بنک کی برانچوں کو کریکر حملوں کا نشانہ بنایا جبکہ سکھر میں ایک بنک کی اے ٹی ایم مشین کے ساتھ دو دیسی ساختہ بم دھماکوں میں شہری بھی زخمی ہوئے ۔
سندھو دیشن لبریشن آرمی سندھی قوم پرست گروپوں سے الگ ہونے والے شدت پسندوں کا گروہ قرار دیا جاتا ہے ۔ اس کا کمانڈر انچیف دریاخان نامی شخص بتایا جاتا ہے جبکہ اس کا سربراہ جئے سندھ متحدہ محاذ کا چیئرمین محمد شفیع برتاف کا تعلق ضلع جامشورو کے علاقے سیہون میں ایک چھوٹے گاؤں تہنی سے ہے ۔ محمدشفیع برفات اسی اور نوے کی دہائی میں جئے سندھ قومی محاذ کے سربراہ ڈاکٹر عبدالقادر مگسی کا قریبی ساتھی تھا ۔
قبل ازیں سندھو دیش لیبریشن آرمی نے 2011ء میں بھی کئی دہشتگرد حملے کئے تھے اس گروپ کا عموما نشانہ ریلوے ٹریک رہے ، رواں سال مئی میں اس گروپ نے حیدر آباد اور کراچی میں اپنی کارروائیاں کیں ۔ کراچی میں اس گروپ کے گلشن حدید میں دہشتگرد حملے کا نشانہ چینی انجینئرتھا۔
سندھو دیش لیبریشن آرمی کے مختلف حملوں کے بعد جائے وقوعہ پر پھینکے جانے والے پمفلٹوں میں سندھ کے وسائل خصوصا کوئلے کے ذخائر چین کے حوالے کئے جانے کو مسترد کیا گیا تھا۔ قبل ازیں میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں سیکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا جاتا رہا ہے سندھو دیش لیبریشن آرمی کا بلوچستان لیبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان سے بھی روابط ہیں اور یہ گروپس آپس میں اسلحہ اور اطلاعات کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں ۔
لاڑکانہ میں گذشتہ روز ہونے والے حملے کے مقام سے بھی سندھو دیش لبریشن آرمی کے ایسے ہی پمفلٹ ملے ہیں جن کی بنیاد پر ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال نے اس واقعہ کا تعلق پاک چین اقتصادی راہداری کے مخالفین سے جوڑا ہے۔
سندھو دیش لیبریشن آرمی کے حملوں سے ایک تخمینہ کے مطابق پانچ ملین سے زائدکا نقصان ہو چکا ہے جبکہ کئی افراد اس گروپ کے دہشتگرد حملوں سے متاثر ہوئے۔
سندھو دیش لیبریشن آرمی کے ماضی میں حملوں کے بعد سیکیورٹی اداروں نے انکے کارکنوں کا سراغ لگانے کا عندیہ تو دیا مگر یہ اس دہشتگرد گروپ کے روح رواں محمد شفیع برتاف اور کمانڈر انچیف دریاخان جو زیر زمین بتائے جاتے ہیں، ابھی تک سیکیورٹی ادارے ان کا سراغ نہیں لگا سکے ۔ تاہم سندھ میں اس گروپ کو پاک چین راہداری منصوبہ کے لئے اب بڑا خطرہ سمجھا جا رہاہے۔
سندھ کے نومنتخب وزیر اعلی سید مراد علی شاہ بھی سیہون سے تعلق رکھتے ہیں جو محمد شفیع برتاف کا آبائی علاقہ ہے۔ سندھ حکومت کے لئے پاک چین راہداری منصوبہ کی تکمیل کو بروقت یقینی بنانے کے لئے ان دہشتگرد گروپوں کا قلع قمع ایک چیلنج سے کم نہیں۔

اس کالم سے متعلقہ ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں:

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ : سندھ میں کونسی دہشتگرد تنظیم بڑا خطرہ