کراچی بدامنی کے ذمہ دار: پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں پول کھل گیا

 کراچی بدامنی پر سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی اور سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سامنے آنے والے انکشافات سے شہر قائد میں ہونے والی لوٹ مار کے کرداروں اور سندھ حکومت سمیت سیاسی جماعتوں کے گٹھ جوڑ اور ایک دوسرے کو تحفظ دینے کا معاملہ واضح ہوا ہے وہاں یہ تاثر بھی ختم ہوا کہ رینجرز کسی خاص جماعت کو کراچی آپریشن کا نشانہ بنا رہے ۔

سینٹ میں رینجرز اور سپریم کورٹ میں سندھ پولیس اور صوبائی حکام کے موقف سے واضح ہو گیا کہ سندھ حکومت اور صوبائی ادار ے کراچی میں امن کے حوالے سے کئی سالوں سے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے رہے جس کے باعث مجرم شہر قائد کو خونریزی اور لوٹ مار کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں حتی کہ اب رینجرز اورپاک فوج کے جوانوں کو بھی نشانہ بنانے کے واقعات ہونے لگے۔کراچی بد امنی کیس کی سماعت کے دوران جمعرات کو چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2012 میں کراچی پولیس کی جانب سے لگائے گئے 820 کیمروں میں سے صرف 17 ہی فعال ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیایم سی نے 2008 میں 168 جب کہ 2014 میں 910 کیمرے نصب کئے جو کہ 2 میگا پکسل کے تھے۔ اس کے علاوہ 2011 میں حکومت سندھ نے 46 مقامات پر198 کیمرے نصب کئے، یہ کمیرے 5 میگا پکسل کے تھے، سندھ پولیس نے 2012 میں 2 میگا پکسل کے 820 کیمرے لگوائے جن میں سے صرف 17 کام کررہے ہیں، 2015 میں 5 میگا پکسل کے 225 کیمرے نصب کئے گئے، سندھ حکومت کیمروں کا سارا نظام پولیس کے سپرد کررہی ہے۔عدالت نے آئی جی سندھ سے سوال کیا کہ فوجی جوانوں کی شہادت کے موقع پرسی سی ٹی وی کیمرے کام کیوں نہیں کررہے تھے۔ آپ کے کیمروں پر شہد کی مکھیاں بیٹھی ہیں، کیمرے واضح تصاویر نہیں لے سکتے تو کیوں لگائے گئے، جس پر اللہ ڈنوخواجہ نے جواب دیا کہ پولیس تفتیش کا بنیادی محکمہ ہے لیکن سہولیات کی عدم فراہمی سے تفتیش متاثرہوتی ہے۔ عدالت نے ناقص کیمروں کی تنصیب پراظہاربرہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ناکارہ کیمروں کی منظوری دینے والے افسران کے خلاف کارروائی ہوگی، دو ہفتوں میں بتایا جائے نئے کیمروں کی تنصیب کا عمل کب تک شروع کردیا جائے گا اوریہ بھی بتایا جائے کہ پولیس کو غیرسیاسی کرنے کیلیے کیا اقدامات کیے گئے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے آئی جی جیل خانہ جات سے بھاگے ہوئے ملزمان سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہمیں معلوم ہے کہ سزایافتہ لوگ بھی جیلوں سے بھاگے ہوئے ہیں اور یہ معاملہ پیرول پر رہا کئے گئے ملزمان سے زیادہ سنگین ہے۔ کیس کی مزید سماعت 11 اگست کو ہوگی۔ آئی جی سندھ نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ پولیس کو امجد صابری کیس میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، انہیں قتل کرنے والے گروہ کا تعین ہوچکا ہے، پولیس ملزمان کے بہت قریب پہنچ چکی ہے، آئندہ چند روزمیں امجد صابری کے قاتل قانون کی گرفت میں ہوں گے۔ ایک روز قبل بدھ 27جولائی کو سینیٹ فنکشنل کمیٹی انسانی حقوق کی چیئر پرسن سینیٹر نسرین جلیل کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کراچی کی امن و امان کی صورتحال بشمول اندرون سندھ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر رینجرز کے کرنل قیصرنے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ کراچی میں۔کراچی آپریشن کے بعد دہشت گردی میں80 فیصد،ٹارگٹ کلنگ میں75فیصد،بھتہ خوری میں85فیصد اور اغواء میں83فیصد کمی آئی ہے۔2013کے بعد7950آپریشن کئے گئے۔6361افراد کو پولیس اور221کو کسٹم ایف آئی اے جیسے محکموں کے حوالے کیا گیا ۔ ان میں سے5518کو بغیر ایف آئی آر درج کئے رہا کیا گیا۔1313کی ضمانت لے لی گئی188کو سزا ہوئی۔ان میں سے 1236دہشت گرد، 848ٹارگٹ کلرز،403بھتہ خور،143اغواء کار تھے۔ٹارگٹ کلرز نے 7224افراد کو نشانہ بنانے کاا عتراف کیا تھا۔
رینجرز کے کرنل قیصر کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے خلاف1313،پیپلز امن کمیٹی کے خلاف 1035،اے این پی کے خلاف28آپریشن ہوئے۔آپریشن سے کراچی اور اندرون سندھ میں دہشت گردی ،ٹارگٹ کلنگ ،اغوا ء کاری ،بھتہ خوری، اور بالخصوص سٹریٹ کرائمز کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔اسی طرح ساؤتھ افریقہ ،برطانیہ ، تھائی لینڈ اور دوسرے ممالک سے مالی مدد میں بھی خاطرخواہ کمی ہوئی جس کی وجہ سے کراچی میں کاروباری سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ سٹاک ایکسچینج کے کاروبار میں اضافہ ہوا ہے ۔14اگست یوم آزادی پر 5ارب کے پاکستانی جھنڈوں کی خریداری کی گئی۔ شہری اب آزادی سے ملازمت ،کاروبار اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں ۔حیدر آباد سے 12افراد اور کراچی سے 3گینگ گرفتار کئے گئے ہیں جو رینجرز کی وردی میں اغواء برائے تا وان، ٹارگٹ کلنگ اور دوسرے جرائم میں ملوث تھے۔ کسی خاص نسل یا زبان بولنے والے شہریوں کے خلاف آپریشن نہیں ہو رہا ۔نہ ہی کسی خاص سیاسی جماعت یا گروہ کے خلاف آپریشن صر ف اور صرف جرائم پیشہ افراد اور مجرموں کے خلاف بلا تفریق کیاجا رہاہے اور بتایا کہ اندرون سندھ کاروائی میں 478 افراد کو پولیس کے حوالے کیا گیا۔
چیئر پرسن کمیٹی نسرین جلیل نے کہا کہ آپریشن سے ایساتاثر قائم ہو رہا ہے کہ کسی خاص پارٹی یا سیاسی وابستگی رکھنے و الے شہریوں یا اردو بولنے والے افراد کے خلاف کاروائیاں کی جا رہی ہیں جس سے قومی ا ور بین الا قوامی سطح پر اچھا تاثر قائم نہیں ہو رہا اور کہا کہ کراچی میں گرفتار شہری کی 13ماہ بعد مسخ شدہ لاش ملی ۔ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا کہ شہری کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا ۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی آئین کی خلاف ورزی ہے مجرموں کے خلاف بلا تفریق کاروائی ہونی چاہئے لیکن یہ تاثر قائم نہ ہو کہ کسی خاص کے خلاف کاروائی کی جار رہی ہے ۔چیئر پرسن کمیٹی سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ بغیر ایف آئی آر درج کئے چھوڑے گئے شہریوں کے بارے میں آئندہ اجلاس میں تفصیلی آگاہ کیا جائے ۔
سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ اردو بولنے والے ایسے نوجوانوں کو اٹھایاگیا جو ایم کیو ایم کے کارکن نہیں تھے اور کہا کہ ایم کیوا یم کے25ارکان پارلیمنٹ کے خلاف انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں7ہزار نوجوانوں کو اٹھا لیا گیا ہے دوران حراست 75فراد کی ہلاکت کو مانا گیا ہے۔کراچی میں کاروائی کو پولیس کے حوالے کیا جائے کراچی میں طالبان کالعدم تنظیمیں کھلے عام گھوم رہی ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اہلکاورں پر گولیاں بھی چلائی جاتی ہیں۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ کراچی میں آفتاب نامی شہری کے قتل کی تحقیقات ہونی چاہئیں لیکن جس ادارے پر قتل کا الزام ہے وہ ادارہ تحقیقات نہ کرے ۔آفتاب کے قتل کی جوڈیشنل تحقیقات بھی کرائی جائیں یا این سی ایچ آر تحقیقات کر لے۔اگر ہمیں اپنی سیکورٹی فورسز کو الزامات سے بچانا ہے تو ہمیں عالمی کنونشن برائے جبری گمشدگی پر دستخط کرنے ہونگے۔سینیٹ کا دوان حراست اموات سے متعلق بل منظور ہو چکا ہے اسے پارلیمنٹ سے پاس کروایا جائے۔سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ا وکاڑہ فارمز کے مزارعین پر دہشت گردی کے مقدمات کے حوالے سے کہا کہ جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی بجائے ہڑتال کا آئینی حق استعمال کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات بنائے جا رہے ہیں اور کہا کہ اینٹی ٹارچر لا ء جلد سے جلد پاس کرایا جائے تو زیر حراست ٹارچر سیلوں میں اموات میں واضح کمی آجائیگی۔
سینیٹر ثمینہ عابد نے کہا کہ رینجرزکے آنے سے کراچی میں امن آیا ہے مجرموں کے خلاف کامیاب کاروائیاں قابل تعریف ہیں ۔
سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ کراچی میں ہلاکتوں پر تشویش ہے لیکن بلوچستان میں بھی مسخ شدہ لاشوں اور لا پتہ افراد کا معاملہ بھی تشوشناک ہے۔سینیٹر میر کبیر احمد نے کہا کہ بلوچستان کے شہری تشویش میں مبتلا ہیں ۔اغوا اور زیر حراست افراد کی ہلاکتوں کی وجہ سے میں نے قائد ایوان سینیٹ سے انسانی حقوق کمیٹی سے مستعفی ہونے کیلئے بھی کہ دیا ہے۔آئین اور قانون کے تحت مجرم کو سزا دی جائے لیکن اٹھائے گئے شہریوں کے بارے میں بھی پتہ ہونا چاہئے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی رینجرز کے بجائے سندھ پولیس کو کراچی میں امن کا کریڈٹ دینے اور اندرون سندھ کو پرامن قرار دئیے جانے کی نفی تو نو نامزد وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے پہلے انٹرویو میں یہ اعتراف کر کے کردی کہ امن وامان کے چیلنج سے نمٹنے رینجرز اختیارات میں توسیع دی جائیگی اورسول اداروں کو پاؤں پر کھڑا کرنا پڑیگا۔
متعلقہ ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دیئے لنک پر کلک کریں :