وزیراعلی سندھ کی تبدیلی کیوں ہوئی ؟ (اندرونی کہانی)

سندھ کے وزیر اعلی کی تبدیلی کو کوئی رینجرز اختیارات سے جوڑ رہا ہے تو کوئی کور کمانڈر کراچی سے قائم علی شاہ کی ملاقات کا شاخسانہ قرار دے رہا ،جبکہ سازشی تھیوریاں پیش کرنے والے اس تبدیلی کو پیپلزپارٹی کی اسٹیبلشمنٹ کو سخت مزاحمت کرنے سے تعبیر کر رہے ۔ کراچی آپریشن کے لئے رینجرز کو اختیارات دینا سندھ حکومت کی اپنی مجبوری ہے کہ پیپلزپارٹی کسی صورت بھی سندھ اور اندرون سندھ کو دہشتگردوں کے ہاتھوں میں دینے کا کلنک بلاول بھٹو زرداری کے ماتھے نہیں لگانا پسند کریگی ۔ پیپلزپارٹی کے فیصلہ ساز سابق صدر آصف علی زرداری نے جب الیکشن 2013ء کے بعد قائم علی شاہ کو نئی منتخب سندھ اسمبلی کا لیڈر آف ہاءوس بنانے کا فیصلہ کیا تھا تو اس وقت بھی قائم علی شاہ کی گذشتہ پانچ سال کی بحثیت وزیر اعلی کارکردگی کوئی قابل ستائش نہیں تھی- پیپلز پارٹی جیسے تیسے سندھ میں حکومت بنانے میں تو کامیاب رہی تھی مگر پیپلزپارٹی کی کامیابی کو کسی طرح بھی پارٹی کے سنجیدہ رہنما بڑی کامیابی نہیں گردانتے تھے ۔ قائم علی شاہ کو دوبارہ حکومت دئیے جانے کے اعتراض پر سینجیدہ سیاسی رہنما یہی بتاتے تھے کہ اگر کوئی بڑی سیاسی ضرورت محسوس نہ ہوئی تو سندھ میں پیپلزپارٹی مزید تین سال قائم شاہی سے ہی کام چلائے گی ۔ پھر بلاول بھٹو زرداری کو میدان میں اتارا جائے گا توپارٹی کے عہدوں پر ہی نہیں سندھ حکومت کا بھی چہرہ تبدیل ہوگا ۔ پیپلزپارٹی کی سیاست و حکومت پر سنجیدہ نظر رکھنے والے صحافی کی حثیت سے میرے لئے سندھ حکومت کے سیاسی چہرے میں تبدیلی کوئی اچنبھے کی بات نہیں ۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق ہی بلاول بھٹو زرداری کو اس تبدیلی کا کریڈٹ دینے کی کوشش کی گئی کہ ٹی وی سکرینز پر بلاول بھٹو زرداری سندھ حکومت کی کارکردگی پر صحافی کے سوال کے جواب میں ” سندھ حکومت جواب دو ” کا موقف اختیار کرتے دکھائی دئیے ۔ سب کچھ سکرپٹ کےمطابق ہو رہا۔ سندھ حکومت کے نئے سیاسی سالار سید مراد علی شاہ کی چناءو پر انکے والد عبداللہ شاہ کے کراچی آپریشن میں ہمرکاب و سینیٹر تاج حیدر کا موقف قابل غور ہے۔ تاج حیدر کا کہنا ہے کہ ” نیا وزیر اعلی سندھ ایسا شخص ہوگا جو اسٹیبلشمنٹ سے اس کی زبان میں بات کر سکے گا اور اسٹیبلشمنٹ کو ان بات سمجھ آ سکے گی۔” نامزد وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کے والد سید عبداللہ شاہ کوسابق بینظیر بھٹو دور میں ہونے والے ایم کیو ایم کیخلاف آپریشن کے حوالے سے جہاں پیپلز پارٹی میں ایک ہیرو سمجھا جاتا ہے وہاں جیالے مرتضی بھٹو قتل کیس کی تلخ یادیں ساتھ رکھتے ہیں۔ جس میں آصف علی زرداری ، عبداللہ شاہ سمیت متعدد پولیس افسران پر ملوث ہونے کا الزام عائد ہوا تھا ۔ پھر جب 2008ء میں بینظیر بھٹو کے قربانی کے نتیجہ میں پیپلزپارٹی حکومت بنی تو 2009 ء میں یہ مقدمہ ختم ہوا اور آصف علی زرداری ، عبداللہ شاہ سمیت دیگر ملزمان کو کراچی کی مقامی عدالت نے باعزت بری کر دیا۔ پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما یہی بتاتے ہیں کہ عبداللہ شاہ کو سابق بینظیر بھٹو حکومت میں سندھ کا وزیر اعلی بنانے کی تجویز آصف علی زرداری نے ہی دی تھی۔ فاطمہ بھٹو تو اس بات پر بھی معترض رہیں کہ کراچی پولیس کے اس افسر کو جسے وہ مرتضی بھٹو قتل کا ذمہ دار وہ سمجھتی ہیں آصف علی زرداری حکومت نے اعلی ریاستی اعزاز سے نوازا تھا۔ پیپلزپارٹی میں سید عبداللہ شاہ کے اسٹیبلشمنٹ کی قربت رکھنے والے سیاستدان کا تاثر قائم رہا اب ان کے صاحبزادے سید مرادعلی شاہ کو آصف علی زرداری نے وزارت اعلی کے لئے چنا ہے اور بلاول بھٹو زرداری پورے اعتماد کے ساتھ انہیں سندھ حکومت کی ٹیم کا نیا کپتان اعلان کرنے کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔ سید مراد علی شاہ کو اپنے والد کی طرح اسٹیبلشمنٹ سے کوئی قربت ہے یا نہیں اس کا اندازہ تو آنے والے دنوں میں سندھ میں کسی تبدیل صورتحال سے اخذ ہو سکے گا تاہم یہ بات طے ہے کہ پیپلزپارٹی کے فیصلہ ساز آصف علی زرداری کو ایسے چہروں کی ضرورت واضح ہے جو سندھ میں اسٹیبلشمنٹ سے معاملات کو بہتر انداز میں چلا سکیں۔ نئی کابینہ میں مخدوم امین فہیم کے صاحبزادے کو بھی اہم ذمہ داری ملنے کا امکان ہے کہ مخدوم امین فہیم کے صاحبزادہ یقینا اپنی والد کی اسٹیبلشمنٹ سے قربت کی وراثت رکھتے ہیں۔ سندھ حکومت کے نئے کپتان سید مراد علی شاہ کے لئے چیلنج تو کراچی میں امن وامان ، اندرون سندھ تک آپریشن کی توسیع کو پیپلزپارٹی پر کسی حرف آئے بغیر جرائم کی بیخ کنی کے لئے یقینی بنانا ہوگا تاہم سندھ میں گذشتہ نو سالہ دور کی خراب گورننس کوکم و بیش انہی پرانے چہروں کی ٹیم کے ساتھ درست سمت لیجانا ایک چیلنج ہوگا جو قائم شاہی حکومت کے ناکامیوں کا باعث رہے کہ پارٹی کی اہم رہنما بھی سندھ حکومت پر تنقید سے گریزاں دکھائی نہیں دئیے۔ سب سے بڑا چیلنج یقینا بلاول بھٹوزرداری کی قیادت میں پیپلزپارٹی کوآئندہ انتخابات سے قبل سندھ حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پر سیاسی مقبولیت سے بامراد کرنا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کو مقبول لیڈر بنانے کے لئے انکے ” سیاسی انکلز” آنے والے دنوں میں ایک اور سیاسی دھماکے کا مواد تیار کر رہے ہیں۔ وزیراعلی کی تبدیلی اور نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد بلاول بھٹو زرداری سے سندھ کے لئے پیپلزپارٹی کے شارٹ ٹرم منصوبے کا اعلان بھی کروایا جانا خارج از امکان نہیں جبکہ پیپلزپارٹی کا ایک نیا منشور بھی ترتیب کے مراحل میں ہے جس کے لئے کئی ماہرین سے خدمات حاصل کی گئیں ہیں تاکہ بلاول بھٹو زرداری اپنے شہید نانا اور والدہ کی طرز پر عوام کے لئے پرکشش نعروں پر مشتمل ایک پارٹی پروگرام پیش کر سکیں۔

سینئر صحافی معظم رضا تبسم کے تجزیاتی کالم کی ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دئیے لنک پر کلک کریں

وزیراعلی سندھ کی تبدیلی کیوں ہوئی ؟ (اندرونی کہانی)