اب آ جاؤ: کیا راحیل شریف سے ریٹائرمنٹ کا مطالبہ؟

پہلے جب ”جانے کی باتیں جانے دو “‘ والے ہورڈنگز لگائے گئے تھے تو آرمی چیف نے پسند نہیں کئے تھے۔  اب اس ذو معنی جملے والے بورڈز کے دو معنی نکلتے ہیں ، ایک مطلب یہ نکلتا ہے کہ ایکسٹینشن نہ لو اور گھر آجاؤ ریٹائرمنٹ لیکر۔ اگر یہ معنی نکالیں تو یقینا اشتہارات لگانے والے کا پہلے والے اشتہارات پر آرمی چیف کی ناپسندیدگی پر ردعمل میں کڑا مطالباتی وار ہے کہ اچھا اب جاؤ گھر اگر ہمارا مطالبہ نہ جانے کا پسند نہیں تو۔

 دوسرا مطلب یہ نکلتا  کہ براہ راست اقتدار سنبھال لو، ریٹائرڈ آرمی آفیسرز کی  تنظیم  جیسی تھیوری پر مبنی ایسی مہم جوئی کو  اتنا سیریس لینا بیوقوفی تو ہو سکتی ہے کہ اشتہارات لگانے والا متنازعہ بن کر مشہور ہونا چاہتا اور سوشل میڈیا پر ڈسکس کر کے مفت میں سب اس کی تشہیر کررہے ۔ مارشل لاء آنے یا جمہوری حکومتوں کو کبھی ایسے اشتہاروں سے گھر جانے کاخطرہ نہیں ہوتا حکمرانوں کی غلط کاریاں ہی کافی ہوتیں۔

اگر یہ اشتہارات آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ یا اقتدار پر قبضہ کا عوامی مطالبہ ہے تو پہلے مطالبہ کرنے والے یا تنظیم کی عوام میں ساکھ بارے سوچنا ضروری اور پھر اس تاریخی سچائی کو سمجھنا کہ فوج جب بھی اقتدار میں آئی اپنی مر ھی اور زمینی حقائق کے تناظر اور اپنی طے شدہ پالیسی کے تحت آئی عوام یا ایسے مطالباتی اشتہاروں پر نہیں۔ اور نہ ہی کوئی آرمی چیف ایسے اشتہاروں پر اپنے عہدے کو چھوڑ کر گھر گیا ۔

اس بارے میں مزید پڑھیں

”جانے کی باتیں جانے دو ” مہم چلانے والے کون ؟

urdu.islamabadpolitics.com/?p=5774