یمن جنگ : امریکہ اورعرب بادشاہتیں کیا چاہتی ہیں ؟

یمن پر بمباری تیسرے ہفتے میں داخل ہوگئی۔ یمن پر مسلط کی گئی اس جنگ کی نوعیت حملہ آوروں کے کردار سے فطری مطابقت رکھتی ہے۔ یمن پر مسلط کی گئی جنگ کو دنیا میں بیہمانہ اور غیر قانونی جنگیں مسلط کرنے والے امریکہ کی پشت پناہی سعودی عرب اور اتحادیوں کو حاصل ہے۔ جن میں سعودی عرب ، اردن ، قطر ، بحرین ،سوڈان اور خلیجی ریاستوں کے بادشاہی نظام کو بچانے کی تگ و دو میں مصروف اور مصر میں جنرل السیسی کی سربراہی میں قائم ڈکٹیٹرشپ شامل ہے۔ پاکستان اور ترکی بھی اس سعودی مہم کے مخالف نہیں اور نہ مذمت کرتے ہیں۔

پا کستان کی پارلیمنٹ نے اس جنگ کو فرقہ وارانہ نہ ہونے کی بحث میں جس قرارداد کی منظوری دی وہ منطقی انجام میں امریکی سرپرستی میں عرب بادشاہتوں کی حمایت پر ہی متنج ہوتی ہے کہ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود پاکستان کسی طرح بھی اس امر کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ عرب ممالک کے اتحاد کی یمن کے خلاف جنگ کی مخالفت کرسکے اس کی وجہ کو بین الاسطور سمجھ لینا ہی بہتر ہے اور پارلیمنٹَ کی منظور کردہ قرارداد میں یمن میں اترنے کے تمام دروازے کھلے ہیں جس کا بہانہ سعودی اپنی سرحدوں پر چند سعودی سرحد کی خلاف ورزیوں اور جھڑپوں کا جواز فراہم کرے حاصل کر سکتے ہیں۔

یمن پر مسلط اس جنگ کو “خواہش کی جنگ” کا نام بھی دیا جا رہا ہے کہ یمن پر مسلط کی گئی اس جنگ کو اقوام متحدہ کی کسی قرارداد کی ابھی تک حمایت حاصل نہیں۔

سعودی اور مصر کی قیادت میں 26 مارچ سے شروع ہونے والے “آپریشن فیصلہ کن طوفان” کا ہدف یمن میں حوثی اورسابق صدر صالح کی حمایتی فوجی یونٹوں کے اتحاد کو شکست دیکر اپنے باجگزار ہادی کو اقتدار میں لانا ہے۔ جس کے لئے گزشتہ دو ہفتوں کے فضائی حملوں امریکہ اور اس اتحادی عرب بادشاہتیں اور آمر یمن میں ٹنوں بارود گنجان آبادیوں پر برسا چکے ہیں۔
یمن پر یہ حملے کیا کیا اجاڑ گئے دنیا ابھی پورا نہیں جانتی کیونکہ امریکی سرپرستی میں لڑی جانے والی عرب بادشاہتوں اور مسلط کی گئی آمریتوں کے اتحاد سے اس لڑی جانے والی جنگ کے بارے صحافتی دنیا بھی کوئی براہ راست معلومات نہیں رکھتی ۔ تاہم اقوام متحدہ کے اپنے ذیلی ادارے یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر سیز فائر نہ ہوا تو آئندہ دنوں میں یمن ایک بڑے انسانی تباہی کا شکار بن جائیگا۔ یمن کے بچے اس جنگ کی قیمت ادا کر رہے ہیں جن کا پانی اور غذا کی سپلائی تک منقطع کردی امریکی سرپرستی میں قائم عرب بادشاہتوں اور آمروں نے فضائی حملوں سے پہلے اور اب فضائی حملوں سے یمن کا انتظامی ڈھانچہ تباہ کیا جا رہاہے فضائی حملوں سے ۔ اس جنگی حملوں سے پہلے کی صورتحال یہ تھی کہ یمن کی 16 ملین آبادی جو یمن کی آبادی کا 53 فیصد ہے بین الاقوامی امداد پر انحصار کررہی تھی اور 13 ملین آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم تھی۔ اور سعودی عرب اور اتحادیوں کے فضائی حملوں کے بعد صاف پانی سپلائی کرنے کا نظام ریخت ہو چکا۔ ریڈ کراس کا ایک طیارہ امدادی ادویات لیکر کل اترپایا مگر کہاں تک رسائی دے سکا کسی کو کچھ پتا نہیں ۔
اقوام متحدہ کہہ رہی ہے کہ امریکی سرپرستی میں سعودی اتحاد کے حملوں سے 600 ہلاکتیں ہوئیں یمن میں لیکن یہ اعدادو شمار بھی دئیے گئے کہ تعداد بہت زیادہ بھی ہے۔ جن میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہے لڑنے والوں سے ۔۔۔ اور یہ ہلاکتوں کی تعداد آسمان کو چھوئیں گی آنے والے دنوں میں ۔۔۔ کیونکہ امریکی سرپرستی میں سعودی اتحاد کے حملوں میں امدادی تنظیموں کو کام کرنے کا موقع ملنا ممکن نہیں۔ جیسے سعودی کمان میں حملہ آوروں کو امریکہ جنگی جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کی سہولت فراہم کر رہا ہے اینٹلی جنس معلومات کی فراہمی کے ساتھ۔
یمن کی بندرگاہ عدن میں اقوام متحدہ کے اہلکار کے حوالے سے یہ رپورٹ ہوا ہے کہ یمن کے علاقے الباستین میں ایک فضائی حملے میں طلبا کی بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
جب یہ سب کچھ ہورہا ہے تو امریکہ کیا کر رہا ہے ، پاکستان کو ایک ارب ڈالر کا اسلحہ دینے کا اصولی فیصلہ کر چکا جو میزائل اور ہیلی کاپٹر کی فروخت کی صورت میں ہے۔ اس سے زیادہ مقدار میں اسلحہ سعودی عرب کو فروخت ہو رہا ہے امریکہ سے ۔
چلیں اگر یہی سمجھ لیں کہ امریکہ اپنی معیشت کو بچانے کے لئے اپنے اسلحہ ساز انڈسٹری کی پیداوار کی نکاسی کے لئے انتظام کر رہا تو کیا اس کے اتحادی ایسا ہی اقدام کیوں نہیں کرینگے یمن کی اس جنگ میں بس قیمت جو لگائے گا اس کی حمایت میں ،،، قراردادیں کب اہم ہوتی ہیں مقاصد ہمیشہ پیش رفت کی تلوار بنتے ہیں ۔ یمن کی جنگ کے دونوں فریق ریاض اور تہران مذہب اسلام ہی کی دو شاخوں کے پیروکار ہیں لیکن علاقائی تنازعات میں دونوں اپنے اپنے فرقوں کے لوگوں کی حمایت کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین دشمنی کی بنیادیں سیاسی ہیں لیکن یہ استعمال فرقہ واریت کو کرتے ہیں، جو ایک خطرناک کھیل ہے۔ سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ایک ترجمان کے مطابق حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے تیز رفتار کیے جا چکے ہیں۔ پہلے اگر اتحادی جنگی طیاروں کی طرف سے روزانہ ایسے قریب 35 حملے کیے جاتے تھے تو اب ہر روز ایسی فضائی کارروائیوں کی تعداد 120 تک ہوتی ہے۔ ترجمان کے مطابق انہی حملوں کی مدد سے اب تک باغیوں کی فضائی طاقت کا بھی تقریباﹰ خاتمہ کیا جا چکا ہے اور ان کے اتحادی، یمنی فوج کے باغی دستوں کو بھی زیادہ تر غیرفعال بنا دیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف اپنی جارحیت کو ’’بدی اور اچھائی‘‘ کے مابین جنگ قرار دیا ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے سعودی فضائی حملوں کو ’’نسل کُشی‘‘ کہا ہے۔
سعودی قیادت میں فضائی حملوں پر اقوام متحدہ اور روس سمیت کئی ملکوں، خاص کر ریڈ کراس جیسی بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی طرف سے تنقید زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ ان فضائی حملوں کے باعث ہونے والی شہری ہلاکتیں، بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا شدید نقصان اور انتہائی تشویشناک انسانی صورت حال ہے۔ لیکن اس صورت حال میں پاکستانی قیادت ابھی تک زباں بندی رکھے ہوئے ہے ۔ حتی کے کوئی حقیقت پسندانہ سوچ بھی اختیار کرنے کا رجحان نہیں ۔
مسلمان دنیا کے تیل پیدا کرنے والے دو طاقت ور ملکوں کے مابین رقابت صرف چند عشرے پرانی ہے اور اس میں بھی اضافہ عراق پر امریکی حملے کے بعد ہوا ہے۔ امریکی حملے کے بعد علاقائی توازن میں گڑ بڑ پیدا ہوئی اور عراق تہران کے زیر اثر جاتا ہوا دکھائی دیا۔ مبصرین کے مطابق ایسے میں علاقائی تنازعے کو ظاہری فرقہ وارانہ تنازعے کے طور پر با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ سطحی طور پر فرقہ وارانہ نظر آنے والے تنازعات کے پیچھے اثرو رسوخ، اپنے اتحادیوں کی سرحدیں اور سپلائی روٹس کی جنگ ہے۔ اپنے تنگ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ علاقائی جغرافیائی سیاست میں فرقہ واریت کی بات کی جاتی ہے لیکن یہ فرقہ وارانہ شناخت کا معاملہ نہیں ہے۔ کیونکہ اسرائیل بھی سعودی جنگجواقدام کی حمایت میں ہے ۔
فرقہ وارانہ اتحاد وہاں ہی بنا ہے جہاں مفادات مشترک تھے۔ مثال کے طور پر مصر اور قطر دونوں یمن میں سعودی اتحاد کا حصہ ہیں لیکن لیبیا کے معاملے میں یا علاقائی سیاست میں یہ دونوں ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ قطر کے ساتھ ساتھ ترکی بھی سعودی عرب کا ساتھ دے رہا ہے لیکن شامی اپوزیشن پر اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے تینوں ملک ایک دوسرے کے متوازی کام کر رہے ہیں۔
اگر فرقہ واریت کو سیاسی دشمنی کی ضمنی پیداوار بھی سمجھا جائے تو یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ شیعہ سنی تقسیم حقیقی ہے اور موجود بھی ہے۔ لیکن سیاسی اداکاروں کی طرف سے اس تقسیم کا فائدہ اٹھانا انتہائی خطرناک ہے اور پھر عراق کی طرح تشدد کو کنٹرول کرنا بھی آسان نہیں رہے گا۔ عراق فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے تباہ ہو چکا ہے۔ کیا اب اس نئی جنگ میں شریک ہونے والے خود کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ؟