پاکستان وافغانستان میں “داعش ” کو ابھرنے نہیں دینگے، آرمی چیف

اسلام آباد پالیٹکس مانیٹر:  آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ داعش جیسی عسکریت پسند تنظٰم کو پاکستان اور افغانستان میں ابھرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے یہ بات واشنگٹن میں امریکا کے لیے پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی کی جانب سے فوجی وفد کے اعزاز میں دیئے جانے والے استقبالیے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں پاکستان و افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی ڈان فیلڈمین سمیت دیگر سنیئر امریکی حکام نے بھی شرکت کی۔
جنرل راحیل شریف نے واضح الفاظ میں کہا کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران بلاامتیاز عسکریت پسندوں کو ہدف بنایا جارہا ہے اور اس کا مقصد دہشت گردی کو جڑ سے ختم کردینا ہے۔
انہوں نے کہا”میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ آپریشن ہر ایک کے خلاف ہے اور اس میں کوئی امتیاز نہیں کیا جارہا ہے چاہے وہ حقانی نیٹ ورک ہو، تحریک طالبان پاکستان یا کوئی اور”۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ضرب عضب سیاسی حکومت سے مشاورت کے بعد پورے عزم اور سنجیدگی سے شروع کیا گیا تھا اور اسے پوری قوم کی حمایت حاصل ہے ، جسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوجی کامیابیوں پر فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضرب عضب صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک دہشت گردی کو ہر طرح سے شکست دینے کا تصور ہے، انسداد دہشت گردی مہم صرف وزیرستان اور خیبرایجنسیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے ملک تک پھیلی ہوئی ہے۔
پاک فوج کے سربراہ نے دورہ امریکا پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ ان کی دوطرفہ فوجی تعلقات پر اپنے امریکی ہم منصبوں سے مفید ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کی خارجہ امور اور آرمڈ سروسز کمیٹیوں سے ملاقات کی۔اس موقع پر جنرل راحیل شریف نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کو واپس آنے نہیں دیا جائے گا اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک پاکستان آپریشن جاری رکھے گا۔آرمی چیف نے آئی ڈی پیز کی بحالی کے پلان سے متعلق امریکی سینیٹرز کو بریفننگ دی اور افغانستان سمیت خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔امریکی سینیٹرز کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مضبوط اور دیرپا شراکت داری کی ضرورت ہے۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی کوششوں اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر تباہ کر دیا ہے۔اس موقع پر امریکی سینیٹرز اور آرمی چیف نے مستقبل میں باہمی سیکیورٹی پر مزید تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔