پاکستان پیپلزپارٹی ۔ ۔۔ روایت اور حقیت کے درمیان/ معظم رضا تبسم

پاکستان پیپلزپارٹی اڑتالیس برس کی ہو گئی ۔ پاکستانی سیاست کی روایت اس پارٹی کے روٹی کپڑا مکان اور مکان کے نعرے نے عام پاکستانی کو متاثر کیا اور اس حد تک متاثر کیا کہ آج تک عام پاکستانی اس نعرے سے متاثر ہے ۔ستر کی دہائی سے پاکستانی سیاست بھٹو اور اینٹی بھٹو میں منقسم ہے ۔

پاکستان اور پاکستان سے باہر انیس سو ساٹھ کی یاد گار و ہنگامہ خیز دہائی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور حالات ایوب خان سے ناراض ہوکر مستعفی ہونیوالے وزیر خارجہ بھٹو کیطرف سے ایک نئی سیاسی پارٹی بنانے کے قطعاً موافق وموزون تھے۔ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان میں بائیں بازو کی مضبوط تحریک جس کو ایوب  خان نے حسن ناصر جیسے لیڈروں کو رات کی تاریکی میں قتل کر کے ختم کرنے کی کوشش کی تھی ابھی تک اس کے اثرات موجود تھے ۔ہندستان پاکستان جنگ کے خاتمے پر تاشقند معاہدے پر پاکستانی عوام کا ردعمل، ایوب خان کی آمریت کیخلاف چھوٹے بڑے سیاسی گروپوں، پارٹیوں ، طالبعلموں اور مزدوروں کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور ابھرتی ہوئی تحاریک، مہنگائ? اور ریاستی جبر، ون یونٹ کی عوامی سطح پر مخالفت، پاکستان سے باہر عرب اسرائیل جنگ، ویتنام جنگ اور اسکا امریکہ اور دنیا بھر میں ردعمل، بائیں بازو سمیت نت نئے سیاسی اور سماجی نظریات، بھٹو کے اپنے آبائی صوبے سندھ اور مشرقی بنگال میں اٹھتی ہوئی قوم پرستانہ طلبہ اور متوسط طبقے میں لہر، اور اس پر بھٹو کی اپنی رنگیلی شخصیت، لفاظی اور انداز خطابت نے بھی اپنا کام ضرور دکھایا۔ اگرچہ پیپلزپارٹی میں ہی گھس بیٹھے کچھ خوش فہم اور نام نہاد بائیں بازو کے سازشی نظریہ دان کہتے ہیں کہ پاکستان میں ’حقیقی انقلاب‘ کا راستہ روکنے کیلیے بھٹو اور انکی پیپلزپارٹی کو میدان میں لایا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ کل کے داس کیپٹل پڑھے ہوئے یہ نظریہ دان اب خود پیپلزپارٹی کا حصہ ہیںاور’ سیٹھ کیپٹل داس‘ بنے ہوئے ہیں۔حقیقتا ایوب خان اس انقلاب کے راستے سے پاکستانی قوم کو تقسیم کے عمل کے ذریعے ہٹا چکا تھا ۔ اور بھٹو نے مغربی پاکستان میں اس تحریک سے متاثر عوام اور لیڈرشپ سے مل کر نئی سیاسی جماعت کی کامیابی کا ادراک کر لیا تھا ۔
یہ سابق پاکستانی سفاتکار اور سوشلسٹ سوچ رکھنے والے جے اے رحیم ہی تھے جنہوں نے بھٹو کی پارٹی کا منشور (جس پر کبھی مکمل عمل نہیں ہوا) لکھا۔ ایک سخت روایتی پاکستانی معاشرے میں بھٹو نے سوشلزم وہ بھی اسلامی کے نعرے کو لوگوں میں ’روٹی کپڑا اور مکان‘ کے پرکشش نعرے کی صورت قابل قبول بنایا۔ یہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈسےبائیں بازو کے دانشوروں اور مارکس کا ملاپ تھا جس کی لیڈرشپ بھٹو نے سنبھالی اورپاکستانی سیاست کو پہلی بار چودھری کے ڈیرے اور وڈیرے کی اوطاق، خان اور ملا کے حجرے سے نکال کر بھاٹی چوک، لیاقت پارک، ککری گراو¿نڈ میں لے آیا۔
یہ وہ دن تھے جب ایوب خان کی ڈر سے بھٹو کے جاگیردار اور وڈیرے دوست اسکی میزبانی سے اپنے ہوٹل اور گھر چھوڑ کر بھاگ جاتے۔ لیکن قاضی فیض محمد، امداد محمد شاہ اور تالپور برادران جیسے لوگ اسکے میزبان بنے۔شیخ رشید، ڈاکٹر مبشر حسن، خورشید حسن میر، معراج محمد خان، غلام مصطفی کھر، ملک معراج خالد، حیات محمد خان شیرپاو¿، تالپور برادران ، ممتاز بھٹو، عبدالحفیظ پیرزادہ، اداکار طارق عزیز، مخدوم طالب المولیٰ، حنیف رامے، میاں محمود علی قصوری یہ بھٹو کی پیپلز پارٹی کی ٹرین پر سوار ہونیوالے والے پہلے لوگ تھے جن میں سے اکثر اسکے تاسیسی اجلاس میں بھی شریک تھے۔
بھٹو کی اس پارٹی کے نام پر پہلے بھی سر شاہنواز بھٹو، غالباً میاں افتخار الدین اور جی ایم سید نے بھی انیس سو پچاس کی دہائی میںپیپلزپارٹی قائم کی تھی۔لاہور کے بعد حیدرآباد سندہ وہ دوسرا شہر تھا جہاں بھٹو کی پیپلز پارٹی کی اصل داغ بیل پڑی- حیدرآباد کے ٹنڈو آغا والوں کے پاس وہ تلوار اب بھی موجود ہے جو وہاں حیدرآباد میں پیپلز پارٹی کے کنونشن میں تالپور برادران نے بھٹو کو پیش کی تھی جو بعد میں انکی پارٹی کا انیس سو ستر میں انتخابی نشان بنا۔لیکن بھٹو کی نئی پارٹی میں معراج محمد خان اور طارق عزیر جیسے لوگوں کا نعرہ تھا ’انتخابات نہیں انقلاب‘ یا ’پرچی نہیں برچھی‘، جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے مشہور ہالا کنونشن میں بھٹو کی موجودگی میں کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ان جوشیلے مقرروں کی تقریریں سنی اور جواب میں اپنی تقریر میں کہا تھا ’میں تم لوگوں کے باپ ماو¿زے تنگ سے چین میں ملا ہوں۔ آپ لوگ نہیں جانتے امریکہ کتنا طاقتور ہے وہ بلوچستان میں گوریلا لڑائی کو سیٹلائیٹ کے ذریعے دیکھ رہا ہے۔‘اسی ہالا کنونشن میں نوجوانوں نے وڈیروں اور جاگیرداروں کی پیپلز پارٹی میں شمولیت پر اعتراض کیا تھا جو انہی دنوں میں تھوک کے بھاو¿ اپنے ’ہزاروں ساتھیوں، قبیلے اور ڈھوروں ڈنگروں و مرغوں! کے ہمراہ جیسے اعلانات کیساتھ پیپلز پارٹی میں شامل ہورہے تھے۔
انیس سو ستر کے انتخابات کے نتائج میں پیپلز پارٹی تب کے مغربی پاکستان میں سب سے اکثریتی پارٹی بنکر جیت کر آئی تھی۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ ذوالفقارعلی بھٹو کے اسٹلشمنٹ سے کمپرومائزبڑھتے گئے ۔مگر فوج نے ذوالفقار علی بھٹو کو تمام کمپرومائز کرنے کے باوجود نئے بین الاقوامی منظر نامے میں جہاں امریکہ کو روس کیخلاف پاکستان کی ملڑی اسٹلشمنٹ سے ملک کر پاکستان کو فرنٹ لائن سٹیٹ بنا کر نئی جنگ لڑنی تھی پاکستان میں طاقت کے توازن کی تشکیل نو کرنی تھی وہاں ذوالفقار علی بھٹو مس فٹ تھا اور پھر بھٹو کو ختم کر دیا گیا مگر پیپلزپارٹی ختم نہیں ہوئی جے اے رحیمکا وہ منشوروہ جس میں عوام کے ہزاروں نفوس کا خون شامل تھا کیسے ختم کی جاسکتی تھی گو کہ انیس سو ستر کے انتخابات سے لیکر آج تک پیپلزپارٹی نام نہاد احتساب کی تلوار کے سائے میں فوجی جنرلوں سے اقتدار کی رسائی کیلیے ساز باز کرنے میں ہی مصروف کار نظر آئی ہے۔مگر عوام ضیاءسے لیکر مشرف آمریت کےخلاف بڑی لڑائی لڑتے آئے اس منشور کےلئے جس میں روٹی کپڑا اور مکان کی صورت میں سوشلسٹ ریاست کا خواب موجود تھا جہاں ہر انسان کی حرمت انسانیت کی بنیاد پر محفوظ ہو گی ۔
1978 میں ضیائالحق کی ایماءپر معروف صحافی کے ایچ برنی نے بھٹوشہید پر قرطاس ابیض کی متعدد جلدیں مرتب کیں لیکن بھٹو پر کسی قابل ذکر مالی بدعنوانی کا الزام نہیں عائد کر پائے۔ پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاسی ثقافت کا ایک اشاریہ یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دونوں ادوار میں نچلے درجے کی قیادت سے لے کر بینظیر بھٹو شہید اور صدر آصف علی زرداری تک مالی بدعنوانیوں کے ان گنت الزامات سامنے آئے مگر نتیجہ ایسا ہی ہے جیساکہ ذوالفقار علی بھٹو پر الزامات کا ہوا ۔

پیپلزپارٹی پر مشکل وقت کے د وران پارٹی کے ممتاز رہنماو¿ں نے اس سے علیحدگی اختیار کی تاہم اقتدار ملنے پر ان میں کئی رہنما پارٹی میں دوبارہ شامل ہوگئے۔ پیپلزپارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے والے کئی رہنماو¿ں نے اسی جماعت کے نام پر نئی جماعتیں قائم کیں اور پیپلز پارٹی کو اقتدار ملنے کے بعد اس میں دوبارہ شامل ہوگئے۔ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری کے بعد بھٹو کابینہ کے وزیر قانون ایس ایم مسعود نے ایک قرارداد کےذریعے سابق وزیر اعظم اور پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو پارٹی کا تاحیات صدر بنا دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کےقریبی ساتھی کوثر نیازی نے مشکل کی اس گھڑی میں علیحدگی اختیار کر لی اور پروگریسِو پیپلز پارٹی کے نام سے جماعت بنالی۔ نیازی کی پیپلز پارٹی میں بھٹو کا ساتھ چھوڑنے والے رہنما شامل ہوئے۔
ذوالفقار علی بھٹو کے پھانسی کے بعد ان کی بیگم نصرت بھٹو کو پارٹی کی چیئرپرسن اور ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کو پارٹی کی شریک چیئرپرسن بنایا گیا۔سن 1986 میں بھٹو کے ایک اور قریبی ساتھی غلام مصطفیٰ جتوئی اور بھٹو کے سیاسی شاگرد غلام مصطفیٰ کھر نے نیشنل پیپلز پارٹی قائم کی تاہم کچھ عرصہ کے نیشنل پیپلز پارٹی مزید دو، جتوئی اور کھر گروپوں میں تقسیم ہوگئی۔انیس سو اٹھاسی میں بینظیر بھٹو کے وزیراعظم بننے کے بعد غلام مصطفیٰ کھر نے اپنے گروپ کواصل پیپلز پارٹی میں ضم کر دیا۔
بینظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور اقتدار میں پارٹی کی چیئرپرسن اور اپنی والدہ کو عہدے سے ہٹا دیا اور خود پارٹی کی چیئرپرسن بن گئیں۔ بیگم نصرت بھٹو کی تبدیلی کے بعد ان کے حامی رہنماو¿ں نے نصرت بھٹو کی سربراہی میں پارٹی کا شہید بھٹو گروپ بنا لیا اور نہ صرف بھٹو کو تاحیات چیئرپرسن قرار دیا گیا بلکہ بینظیر بھٹو کے بھائی مرتضیٰ بھٹو نے جلاوطنی سے پاکستان واپسی پر شہید بھٹو گروپ کی قیادت سنبھال لی۔

مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد پارٹی کی قیادت مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹو کے ہاتھ میں آگئی اور وہ تاحال شہید بھٹو گروپ کی سربراہ ہیں۔پیپلز پارٹی کے رہنما اور صدر مملکت سردار فاروق احمد خان لغاری نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو 1996 میں تحلیل کر دیا اور بھٹو کے قربیی ساتھی ملک معراج خالد کو نگران وزیر اعظم نگران مقرر کر دیا۔پیپلز پارٹی کے رہنما رانا شوکت محمود نے بھی 1996 میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمہ پر پیپلز پارٹی زید اے بھٹو کے نام پر جماعت بنائی تاہم اکتوبر دوہزار دو میں عام انتخابات سے قبل رانا شوکت محمود دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔سردار فاروق لغاری نے صدر مملکت کے عہدے سے استعفیٰ دے کر ملت پارٹی بنائی اور اس جماعت میں پیپلزپارٹی کے ناراض رہنماو¿ں نے شمولیت کی۔ سابق وزیر داخلہ آفتاب شرپاو¿ نے اختلافات کی بنیاد پر پیپلز پارٹی شرپاو¿ گروپ کے نام جماعت بنائی۔دونوں جماعتیں اب ختم ہو کر رہی گئیں۔
بینظیر بھٹو کو لاہور میں ایک اجلاس میں پارٹی کی تاحیات چیئرپرسن بنا دیا گیا۔سنہ دوہزار دو کے انتخابات سے قبل بینظیر بھٹو نے خود پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے نام سے ایک جماعت بنائی جس کا سربراہ مخدوم امین فہیم کومقرر کیا گیا۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کی وجہ سے پیپلزپارٹی نے سنہ دو ہزار دو کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا ۔
سنہ دوہزار دو کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کے منتخب ارکان اسمبلی نے پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی پیڑیاٹ قائم کی اور مسلم لیگ قاف کو حکومت بنانے میں مکمل مدد اور تعاون فراہم کیا۔پیپلز پارٹی پیڑیاٹ اور پیپلز پارٹی شرپاوکے انضمام کے بعد اس جماعت کو پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرایا گیا تھا تاہم آفتاب شرپاو¿ کے سوا پیپلز پارٹی پیڑیاٹ مسلم لیگ قاف میں شامل ہوگئی۔
بینظیر بھٹو نے حال میں پیپلز پارٹی پیڑیاٹ اور پیپلز پارٹی شرپاوکے انضمام کے بعد اس جماعت کو پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرنے کے اقدام کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس پر سندھ ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی پیڑیاٹ اور شرپاو¿ گروپوں کے انضمام کرکے انہیں پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دیا اور پیپلز پارٹی کا نام بحال کر دیا۔
پیپلزپارٹی نے محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سن دوہزار آٹھ کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ ن، ایم کیو ایم ، جے یو آئی ف اور عوامی نیشنل پارٹی سے ملکر حکومت بنائی مگر جلد ہی مسلم لیگ ن اقتدار سے الگ ہو گئی اور اپوزیشن بن بیٹھی ۔ اب اقتدار کا یہ پانچواں آخری سال اختتام کے قریب ہے مگر پیپلزپارٹی کی عوامی سطح پر تنظیم اتنی ہی کمزور جتنی اپنے اولین دور سے رہی ۔ اب پیپلزپارٹی کی قیادت شہید بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو کے ہاتھ سونپی گئی ہے مگر ابھی سیاست کا آغاز باقی ہے اور امتحان بھی ۔ بے اختیار اور ابھی سیاست کو سیکھ رہے ہیں مگر جن سے سیکھ رہے ہیں ان کا پانچ سالہ حکومت میں کردار بھی سوالیہ نشان ہے نہ وہ سوشلزم اور نہ روٹی ،کپڑااور مکان کے نعرے کو سمجھتے ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ برائے اقتدار کے ہی داعی ہیں
پیپلز پارٹی اپنے قیام سے اب تک پانچ مرتبہ اقتدار میں آئی اور دو مرتبہ پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم بنے اور دو مرتبہ ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کو اقتدار میں رہنے کاموقع ملاجبکہ پیپلزپارٹی کے پانچویں دور میں کوئی بھٹووزیراعظم نہیں تھا اور پیپلزپارٹی اسٹیبلشمنٹ سے اتحاد کرکے اپنا پانچواں دور مکمل کرنے کے قریب ہے عوام جس بھی حال میں ہیں مگر روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کی روایت آج بھی زندہ ہے ایک سوال کی طرح !!