یورشیا میں امریکی جنگی منصوبے / پیٹر سائمنڈز

یوکرائن کے معاملہ پر امریکہ اور روس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے جہاں یورپ میں جنگ کے خدشا ت بڑھے ہیں، امریکی صدر اوباماایشیاء میں اپنے اتحادیوں سے رابطوں کے دورے پر ہیں تاکہ خطے میں امریکی فوج کا تنازعات کے شکار علاقوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کو یقینی بنا سکیں۔

امریکہ نے گذشتہ پانچ برسوں کے دورا ن مشرقی و جنوبی چین سمندری جزائر پر تنازعات کے شکار اپنے اتحادیوں جاپان اور فلپائن کو جارحانہ رویہ اختیار کرنے پر مائل کیا۔ جاپانی وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران اوباما کی متنازعہ جزائر کے معاملہ پر جاپان کے دفاع کو یقینی بنانے کا عندیہ یقیناًآگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے ۔

چین اور جاپان کے درمیان مشرقی اور جنوبی چین کے سمندروں میں چٹانوں پر مشتمل چھوٹے جزائر پر ملکیت کا تنازعہ پانچ برس پہلے تک غیر معروف تھا مگر اب فوجی تنازعہ کا آتش فشاں قرار دیا جا رہا ہے اور امریکہ کی چین اورجاپان کے اس تنازعہ میں شمولیت کسی تباہی کے خطرے سے قطع نظر اپنی خارجہ پالیسی کے اہداف کا حصول ہے۔جس کے لئے واشنگٹن نے ٹوکیو کو مکمل عسکری مدد دینے کا عندیہ دیکر چین سے تنازعہ کو مزید بڑھانے کا اشارہ دیا ہے ۔

یوکرائن میں بھی امریکہ کھلے عام فاشسٹ تنظیموں سے تعاون کر رہا ہے جبکہ جاپان میں اوباماکو دوسری جنگ عظیم کے بعد انتہائی دائیں بازو کی اتحادی حکومت مل گئی ہے۔ گذشتہ ایک برس میں جاپانی وزیراعظم شین زو نے فوجی اخراجات میں دس برسوں میں پہلی بار اضافہ کیا ہے جس کیلئے دفاعی اخراجات میں اضافے کیلئے آئینی رکاوٹیں دور کی گئیں اور امریکہ کی طرز پر نیشنل سیکیورٹی کونسل تشکیل دی گئی اور چین کا متنازعہ جزائر پر دعوی مسترد کیا۔

شانزو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت فوج میں ننجنگ طرز ایسے روایتی جاپانی عسکریت پسندی کو بڑھاوا دے رہی ہے ننجنگ سانحہ میں جاپان کی افواج نے 1937ء میں ہزاروں چینی نسل بے دردی سے ہلاک کر دئیے تھے ۔ شانزو قبل ازیں بدنام جنگی جرائم کے مجرم یاسے کونی کے مقبرہ پر بھی حاضری دی جس نے جاپانی امپریلزم کے جرائم پر پردہ ڈالنے کیلئے مہم چلائی ۔شانزو نے رواں ماہ ہی انتہائی دائیں بازو کے شخصیات کو سرکاری چینل این ایچ کے پر براڈ کاسٹر مقرر کیا جن میں نوکی ہایاکوٹا جیسے مصنف بھی شامل ہیں جس نے قرار دیا ہے کہ ننجنگ جیسا سانحہ کبھی ہوا ہی نہیں۔

اوبامہ انتظامیہ اس روایتی جاپانی شدت پسند عسکریت کو زندہ کرنے میں براہ راست کردار ادا کر رہی ہے ۔ جون دوہزار دس میں واشنگٹن نے جاپانی وزیر اعظم یوکی ہاتوما پر مستعفی ہونے کیلئے دباؤ ڈالا جب وہ چین سے تعلقات بہتر بنانے اور جاپان سے امریکی فوجی اڈے ختم کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے ۔ جب چین سے جزائر کا تنازعہ شدید ہوا تو شانز و اور اسکی کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے اس حساس قومی مسئلہ پر جذباتی ہیجان کھڑا کرکے، صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 2012ء کا الیکشن جیت لیا۔

گذشتہ ہفتے جاپان کے دورہ میں مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر اوباما نے شانز و کی کے دفاعی توسیع کے اقدام پر مہر ثبت کر دی اور جاپان کو جدید دفاعی سامان اور اسلحہ فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اوبامہ کایوکرائن میں روس مخالفت اور چین کو دو محاذوں پر الجھانادرحقیقت یورشیا کے خطے میں اپنا تسلط قائم کرنے کا خطرناک لائحہ عمل ہے۔ سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد برزنسکی نے یورشیا کی اہمیت بتاتے ہوئے قرار دیا تھا کہ دنیا پر حاکمیت کے ایجنڈے کیلئے یورشیا پر بالادستی امریکہ کیلئے ضروری ہے۔

مشرق بعید میں واقع ممالک بالخصوص چین اور جاپان اپنی جنگی صلاحیت بڑھا رہے ہیں۔ جاپان آئینی پابندی کو منسوخ کر کے اپنی فوج کو انتہائی فروغ دے چکا ہے۔ یوں آج جاپان کے فوجیوں کی تعداد مشرق بعید میں متعین روسی فوجیوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ اس علاقے مین ایک لاکھ روسی فوجی موجود ہیں۔ مزید برآں امریکہ ایشیا میں میزایل شکن دفاعی نظام کا قیام جاری رکھے ہوئے ہے۔

یورشیا پر بالا دستی قائم کرنے میں روس اور چین امریکہ کیلئے درد سر ہیں ، مشرق وسطی میں شام میں مداخلت کے امریکی ایجنڈے کو بھی انہیں کے باعث کامیابی ملنا ممکن نہیں ہو سکی ۔ ہیجان کی شکار امریکی قیادت جس حکمت عملی کا شکار ہے اس پر بین الاقوامی تجزیہ کار اٹیمی ہتھیاروں کی لڑائی تک متنج ہونے کے خطرات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس سے قبل گذشتہ نومبر میں امریکہ نے ایسا ہی پیغام چین کو اپنا B-52طیارہ بیجنگ کے اعلان کردہ نو فلائی زون میں بھجوا کر دیا تھا۔ امریکہ لائحہ عمل محض چین اور روس کی خطے پر اثر بڑھنے سے روکنا نہیں بلکہ پورے یورشیا کو اپنے تابع لانا ہے۔ چاہے اس کیلئے  ممالک کی تقسیم ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔