پاک ایران اقتصادی تعاون بڑھانے کا حکومتی ایجنڈا سست روی کا شکار

اسلام آباد (معظم رضا تبسم ) پاک ایران اقتصادی تعاون کو بڑھانے کا حکومتی ایجنڈا ایرانی سرحدی محافظوں کے اغواء سے پیدا ہونے والی صورتحال میں سست روی کا شکار ہوگیا۔ سرحدی محافظو ں کے اغواء کے بعد ایرانی حکا م کا زیر التواء دورہ کے ایجنڈا کیلئے تجاویز کے تبادلے کا عمل بھی سست روی کا شکار ہے ، وزیراعظم کے دورہ ایران کا اہم ترین معاملہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ہوگا جس کے معاہدہ پرحکومت نظرثانی چاہتی ہے تاکہ گیس پائپ لائن منصوبہ کے التواء سے پاکستان پر عائد ہونے والے ملین ڈالر زسالانہ جرمانے کا معاملہ طے کیا جا سکے جو مالی دباؤ کے شکار پاکستان کیلئے مزید مشکلات پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے ۔دفترخارجہ کی ترجمان گذشتہ دو ماہ سے ہفتہ وار بریفنگ میں ایران کی طرف سے رابطوں کا عندیہ تو دیتی ہیں مگر دونوں ممالک کے وزارتی کمیشن اجلاس کیلئے ایجنڈا پر ایران کی تجاویز کا پاکستان تاحال منتظر ہے۔ دفترخارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم دورہ ایران میں باہمی مضبوط سیاسی تعلقات کو اقتصادی تعاون تک وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ وزیر اعظم کے دورہ سے پہلے پاکستان دونوں ممالک کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس چاہتے ہیں تاکہ طویل عرصہ کے زیر التواء دورہ کیلئے اہمیت کا حامل ایجنڈا تیار کیا جا سکے ۔ ایران کی طرف سے بھی تجاویز کا انتظار ہے۔ جس کے بعد ان تجاویز کو وزارتی کمیشن کے اجلاس میں غور کے بعدوزیر اعظم کے دورہ کا حتمی ایجنڈا طے ہوگا ۔