آٹا، چینی اور بجلی،پر حکومتی و اپوزیشن سیاستدان قابض

پاکستان کے ممتاز اقتصادی ماہرڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ پاکستان میں پچھلی کئی دہائیوں سے اقتصادی پالیسیاں جاگیردارانہ ذہنیت کے تحت بن رہی ہیں۔ ان کے بقول اس ملک میں سیاستدانوں، ارکان اسمبلی، سول و ملٹری بیورو کریسی، طاقتور صنعت کاروں اور سٹاک ایکسچینج کے سٹے بازوں نے ایک ناپاک اتحاد قائم کر رکھا ہے۔ یہ لوگ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اور محض چند لاکھ لوگوں کو اقتصادی فائدہ پہنچانے کی خاطر اقتصادی بوجھ 19 کروڑ عوام کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔ ان کے بقول پاکستان کی سیاسی حمایت یافتہ کاروباری برادری کا بڑا حصہ ٹیکس ادا نہیں کرتا، اس وجہ سے حکومت بجلی اور گیس کے ٹیرف بڑھا کر غریب عوام پر بوجھ ڈال دیتی ہے۔ چونکہ اقتدار میں آنے کے لیے سیاستدانوں کو انہی طاقتور تاجروں اور صنعت کاروں کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے عوام کا نعرہ لگانے والے سیاسی جماعتیں بھی عوامی مفاد پر کمپرومائز کر لیتی ہیں۔

پاکستان کے ایک سینئر اقتصادی تجزیہ نگار منصور احمد کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی تاریخ سیاستدانوں کے کاروبار کی غیر معمولی اور تیز رفتار ترقی کی مثالوں سے بھری پڑی ہے، زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والے فیصل صالح حیات اقتدار میں آئے تو کامیاب صنعت کار بن گئے، نواز شریف اور چوہدری پرویز الہٰی کے خاندانوں کا زیادہ تر کاروبار ان کے سیاست میں آنے کے بعد ہی پھلا پھولا‘۔

منصور احمد کے بقول پاکستان میں 79 شوگرملیں ہیں اوران میں سے 60 سے زیادہ ملز سیاستدانوں یا ان کے قریبی رشتہ داروں کے پاس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں چینی سر پلس ہو جائے اور عالمی منڈی میں چینی کی قیمتیں گر بھی جائیں تو ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو مہنگے داموں چینی خریدنے کے لیے کہا جاتا ہے اور اگر ملک میں چینی کی پیداوار کم ہو تو باہر سے چینی کی امپورٹ پر ڈیوٹی لگوا دی جاتی ہے اور یوں کنزیومر کو فائدہ نہیں پہنچنے دیا جاتا۔

منصور احمد نے بتایا کہ سی این جی سیکٹر میں سیاست دان یا ان کے رشتہ داروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اسی لیے ماضی میں اس سیکٹر کو کافی مراعات دی گئیں، ”بیس، بیس سال سے کاروبار کرنے والی ایسی کمپنیاں، جن کے پاس پورا کاروباری انفراسٹرکچر موجود، ان کے پاس ایل پی جی کا کوٹہ نہیں ہے جبکہ اس کاروبار میں تجربہ نہ رکھنے والے بہت سے سیاستدانوں اور جرنیلوں کو ایل پی جی کے کوٹے الاٹ کر دیے گئے ہیں۔“ان کے بقول پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری اعتزاز احسن کی اہلیہ نے بھی ایل پی جی کا کوٹہ لے رکھا ہے اور ایسی کئی دیگرمثالیں بھی پاکستان میں موجود ہیں۔

منصور احمد کے بقول پیپلز پارٹی کے دور میں جب احمد مختار پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر مقرر ہوئے تو ان کی صنعتوں کی بجلی بند نہیں ہوتی تھی۔ منصور احمد کا کہنا ہے کہ یہ صرف پاکستان ہے، جہاں امپورٹڈ گاڑیوں کا جہاز آکر بندرگاہ پر کھڑا ہوتا ہے تو اس کی حمایت میں ایس آر او جاری ہو جاتا ہے، ایل سی کھلنے اور گاڑیاں کلیئر کروانے کے بعد وہ ایس آر او فوری طور پر ختم ہو جاتا ہے۔

منصور احمد بتاتے ہیں کہ سیمنٹ، شوگر اور گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ کارٹل کے سامنے پاکستانی حکومتیں اکثر بے بس ثابت ہوتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ کے غیر منصفانہ کاروباری استعمال کی بڑی وجہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا کمزور ہونا ہے۔ ان کے خیال میں کسی سیاستدان کا کاروبار کرنا غلط بات نہیں ہے لیکن غیر منصفانہ طریقے سے کاروباری فائدے حاصل کرنا درست نہیں ہے، ”مثال کے طور پر اگر کسی وزیر خزانہ کے کسی رشتہ دار کا کرنسی کا کاروبار ہے اور اسے یہ اطلاع دے دی جائے کہ اگلے چند دنوں میں ڈالر کی قیمت میں پانچ روپے کی کمی یا بیشی ہونے والی ہے، تو وہ ایک ہی دن میں کروڑوں کما سکتا ہے۔“

اقتصادی امور کی کوریج کا طویل تجربہ رکھنے والے سینئر صحافی رضوان رضی کی رائے ہے کہ کاروباری معاملات میں سیاسی مداخلت کے اب نئے رجحانات سامنے آرہے ہیں، ”بعض سیاستدانوں نے اپنے کاروبار بیرون ملک منتقل کر لیے ہیں اور بعض فرنٹ مینوں کے ذریعے بھی بزنس کر رہے ہیں۔ ان کے بقول حال ہی میں سیاسی سرمایہ کاروں نے ڈیلی کماڈیٹیز کے کاروباروں میں بھی سرمایہ کاری کرنا شروع کر دی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیلی کماڈیٹیز میں کمائی کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ ان کے بقول پہلے سیاستدانوں کے کاروبار کا ذکر ہوتا تھا تو دھیان چینی، آٹے، گیس اور سبزیوں کی طرف جاتا تھا، اب تو دودھ یا انڈے لینے جائیں تو وہ بھی سیاستدانوں کی فیکڑیوں کے بنے ہوئے ملتے ہیں۔“

رضوان رضی کے بقول پاکستان کی سیاسی حکومتوں نے کاروباری پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے مناپلی کنٹرول اتھارٹی اور نیشنل ٹیرف کمیشن کو مضبوط نہیں ہونے دیا، ”چوہدری پرویز الہٰی کا خاندان آٹے کے کاروبار سے وابستہ رہا، شریف فیملی سٹیل اور شوگرملوں کے بعد اب پراپرٹی، پولٹری اور ڈیری کے کاروباروں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کا شمار ایسے صنعت کاروں میں ہوتا ہے جو کئی کئی شوگر ملوں کے مالک ہیں“۔ یاد رہے کہ پاکستان میں شوگر ملوں کو گنے کے پھوک سے بجلی پیدا کرنے کے لیے سرکار نے کافی مراعات دے رکھی ہیں۔ ادھر تحریک انصاف کے جہانگیر ترین بھی شوگر ملوں اور ڈیری مصنوعات کے بڑے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ رضوان رضی کے بقول ’پاکستان کے ایک پراپرٹی ٹائیکون کی سیاسی سرگرمیاں اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں‘۔

ان کے بقول لگتا یوں ہے کہ ایک طرف پاکستان کی بزنس کمیونٹی نے یہ سوچ لیا ہے کہ زیادہ منافع سیاسی راستوں کی طرف سے ہی ہو کر آتا ہے اور وہ سیاستدانوں پر انوسٹمنٹ کرتے ہیں اور پھر اپنی مرضی کی اقتصادی پالیسیاں بنواتے ہیں۔ دوسری طرف سیاستدانوں نے بھی غالباً یہ بات پلے باندھ لی ہے کہ نئے دور کی سیاست پیسے کے بغیر مشکل ہے، اس لیے اپنے آپ کو کاروباری لحاظ سے محفوظ کرنا بھی ان کے لیے اہم ہوتا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر مہنگائی کنٹرول کرنے کے ذمہ دار سیاسی کاروباری لوگ اپنے ذاتی مفاد کے تحفظ میں لگے رہیں گے تو پھر مہنگائی کی وجہ سے پسے ہوئے غریب عوام کے مفادات کا تحفظ کون کرے گا۔

(ڈی ڈبلیورپورٹ)